صحیح مسلم حدیث ۲۴۹۰ - ام عطیہ رضی اللہ عنہا کا گوشت اور صدقہ
صدقہ جب مستحق تک پہنچ جائے: ام عطیہ رضی اللہ عنہا کی حدیث
صحیح مسلم : ۲۴۹۰
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۴۹۰
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ خَالِدٍ ، عَنْ حَفْصَةَ ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ ، قَالَتْ : بَعَثَ إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَاةٍ مِنَ الصَّدَقَةِ ، فَبَعَثْتُ إِلَى عَائِشَةَ مِنْهَا بِشَيْءٍ ، فَلَمَّا جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى عَائِشَةَ ، قَالَ : " هَلْ عِنْدَكُمْ شَيْءٌ ؟ ، قَالَتْ : لَا إِلَّا أَنَّ نُسَيْبَةَ بَعَثَتْ إِلَيْنَا مِنَ الشَّاةِ الَّتِي بَعَثْتُمْ بِهَا إِلَيْهَا ، قَالَ : إِنَّهَا قَدْ بَلَغَتْ مَحِلَّهَا " .
ام عطیہ روایت:
بھیجا میرے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بکری کو صدقہ کی تو میں نے اس میں سے تھوڑا گوشت سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو بھیج دیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لائے اور فرمایا: تمہارے پاس کچھ کھانا ہے؟“ انہوں نے عرض کیا کہ نہیں مگر نسیبہ نے (یعنی ام عطیہ نے) ہمارے پاس کچھ گوشت بھیجا ہے اس بکری میں سے جو آپ نے ان کے پاس بھیجی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ اپنی جگہ پہنچ گئی۔“
صحیح مسلم حدیث ۲۴۹۰ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا کا واقعہ ہے۔ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے ان کے پاس صدقہ کی بکری بھیجی۔ انہوں نے اس میں سے کچھ گوشت سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس بھیج دیا۔ جب نبی صلى الله عليه وسلم سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لائے اور کھانے کے بارے میں پوچھا تو بتایا گیا کہ یہ اسی بکری کا گوشت ہے جو آپ صلى الله عليه وسلم نے ام عطیہ رضی اللہ عنہا کو بھیجی تھی۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ وہ اپنی جگہ پہنچ گئی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ صدقہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا تک پہنچ کر اپنا حکم پورا کر چکا تھا۔ پھر ان کی طرف سے آنے والا گوشت الگ حیثیت رکھتا تھا۔ یہ حدیث صدقہ اور ہدیہ میں فرق کو عملی مثال سے سمجھاتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- صدقہ کا اصل مرحلہ مستحق تک پہنچنا ہے۔
- مستحق اپنی ملکیت سے دوسروں کو بھیج سکتا ہے۔
- نبی صلى الله عليه وسلم نے کھانے سے پہلے اس کی صورت معلوم کی۔
- حکم کو واقعے کی خاص ترتیب کے ساتھ سمجھنا چاہیے۔
