صحیح مسلم حدیث ۲۴۹۱ - نبی صلى الله عليه وسلم صدقہ نہیں کھاتے، ہدیہ قبول کرتے
صدقہ اور ہدیہ میں فرق: نبی صلى الله عليه وسلم کا معمول
صحیح مسلم : ۲۴۹۱
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۴۹۱
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَلَّامٍ الْجُمَحِيُّ ، حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ يَعْنِي ابْنَ مُسْلِمٍ ، عَنْ مُحَمَّدٍ وَهُوَ ابْنُ زِيَادٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كَانَ إِذَا أُتِيَ بِطَعَامٍ سَأَلَ عَنْهُ ، فَإِنْ قِيلَ هَدِيَّةٌ أَكَلَ مِنْهَا ، وَإِنْ قِيلَ صَدَقَةٌ لَمْ يَأْكُلْ مِنْهَا " .
ابوہریرہ روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت تھی کہ جب کھانا آتا پوچھ لیتے اگر ہدیہ ہوتا تو کھاتے اور صدقہ ہوتا تو نہ کھاتے۔
صحیح مسلم حدیث ۲۴۹۱ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی صلى الله عليه وسلم کا ایک واضح معمول بیان کرتے ہیں۔ جب کھانا آتا تو آپ صلى الله عليه وسلم اس کے بارے میں پوچھتے۔ اگر بتایا جاتا کہ یہ ہدیہ ہے تو آپ صلى الله عليه وسلم کھاتے، اور اگر بتایا جاتا کہ یہ صدقہ ہے تو آپ صلى الله عليه وسلم نہ کھاتے۔ اس سے دو باتیں سمجھ آتی ہیں۔ پہلی یہ کہ صدقہ اور ہدیہ ایک جیسے نہیں ہیں۔ دوسری یہ کہ کھانے پینے کے معاملے میں بھی حلال و جائز صورت کو سمجھنا چاہیے۔ نبی صلى الله عليه وسلم نے ہدیہ قبول فرمایا، مگر صدقہ سے بچتے رہے۔ اس حدیث میں کسی پر سختی نہیں، بلکہ احتیاط اور صاف پوچھنے کا طریقہ ہے۔ جب اصل معلوم ہو جائے تو اسی کے مطابق عمل کیا جائے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نبی صلى الله عليه وسلم کھانے کی اصل صورت معلوم فرماتے تھے۔
- ہدیہ قبول کیا جا سکتا ہے، مگر صدقہ کا حکم الگ ہے۔
- دینی احتیاط عام زندگی کے کاموں میں بھی ہونی چاہیے۔
- سوال کرنا کبھی کبھی صحیح عمل کے لیے ضروری ہوتا ہے۔
