صحیح مسلم حدیث ۲۴۹۵ - رمضان میں جنت کے دروازے کھلتے ہیں
رمضان کی فضیلت: جنت کے دروازے اور شیاطین کی زنجیریں
صحیح مسلم : ۲۴۹۵
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۴۹۵
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ ، وَابْنُ حُجْرٍ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ أَبِي سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا جَاءَ رَمَضَانُ ، فُتِّحَتْ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ وَغُلِّقَتْ أَبْوَابُ النَّارِ ، وَصُفِّدَتِ الشَّيَاطِينُ " .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب رمضان آتا ہے تو کھل جاتے ہیں دروازے جنت کے اور بند ہو جاتے ہیں دروازے دوزخ کے اور زنجیروں میں کس دئیے جاتے ہیں شیاطین۔“
صحیح مسلم حدیث ۲۴۹۵ کا خلاصہ
اس حدیث کا موضوع رمضان کی فضیلت ہے۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: جب رمضان آتا ہے تو جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں، دوزخ کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں اور شیاطین زنجیروں میں کس دیے جاتے ہیں۔ حدیث کے الفاظ بہت مختصر ہیں، مگر رمضان کی خاص شان بتاتے ہیں۔ یہ مہینہ عام دنوں جیسا نہیں؛ اس میں خیر کے راستے کھلتے ہیں اور برائی سے بچنے کا ماحول آسان ہوتا ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ انسان خود بخود نیک ہو جائے گا، بلکہ رمضان انسان کو اچھے عمل کی طرف بلاتا ہے۔ جو شخص اس موقع کو سنجیدگی سے لے، وہ روزہ، دعا اور نیکی کی طرف زیادہ متوجہ ہو سکتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- رمضان نیکی کے لیے خاص موقع ہے۔
- جنت کے دروازے کھلنے کا ذکر اس مہینے کی فضیلت بتاتا ہے۔
- شیاطین کے باندھے جانے کے باوجود انسان کو اپنی کوشش کرنی ہوتی ہے۔
- رمضان میں عبادت اور بھلائی کی طرف متوجہ ہونا چاہیے۔
