صحیح مسلم حدیث ۲۴۹۶ - رمضان میں رحمت کے دروازے کھلتے ہیں

رمضان کی رحمت: دروازے کھلتے ہیں، شیاطین باندھے جاتے ہیں

صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۴۹۶

وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ ابْنِ أَبِي أَنَسٍ ، أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا كَانَ رَمَضَانُ ، فُتِّحَتْ أَبْوَابُ الرَّحْمَةِ ، وَغُلِّقَتْ أَبْوَابُ جَهَنَّمَ ، وَسُلْسِلَتِ الشَّيَاطِينُ " ،

ابوہریرہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب رمضان ہوتا ہے تو رحمت کے دروازے کھل جاتے ہیں اور دوزخ کے دروازے بند ہو جاتے ہیں اور شیاطین زنجیروں میں باندھے جاتے ہیں۔“

صحیح مسلم حدیث ۲۴۹۶ کا خلاصہ

یہ روایت رمضان کی فضیلت کو ایک اور لفظ کے ساتھ بیان کرتی ہے۔ نبی صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ جب رمضان ہوتا ہے تو رحمت کے دروازے کھل جاتے ہیں، دوزخ کے دروازے بند ہو جاتے ہیں اور شیاطین زنجیروں میں باندھ دیے جاتے ہیں۔ یہاں جنت کے بجائے رحمت کے دروازوں کا ذکر آیا ہے، جس سے رمضان کی امید بھری فضا سمجھ آتی ہے۔ اس حدیث سے بندے کو یہ سوچ ملتی ہے کہ رمضان اللہ کی طرف رجوع کرنے کا موسم ہے۔ روزہ صرف بھوک پیاس کا نام نہیں، بلکہ اس مہینے میں رحمت طلب کرنے، گناہ سے بچنے اور اچھے کام بڑھانے کا موقع ہے۔ حدیث میں جو کچھ آیا ہے، اسی حد تک بات یہ ہے کہ رمضان خیر کے دروازے کھولتا ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • رمضان کو رحمت کا خاص موقع سمجھنا چاہیے۔
  • دوزخ کے دروازے بند ہونے کا ذکر بندے کو امید دلاتا ہے۔
  • شیاطین کے باندھے جانے کے باوجود اپنی اصلاح ضروری ہے۔
  • روزے کے مہینے میں نیکی کی طرف قدم بڑھانا چاہیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں