صحیح مسلم حدیث ۲۴۹۷ - رمضان کے آنے پر خیر کے دروازے
جب رمضان داخل ہو: خیر، رحمت اور نیکی کا موقع
صحیح مسلم : ۲۴۹۷
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۴۹۷
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، وَالْحُلْوَانِيُّ ، قَالَا : حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، حَدَّثَنِي نَافِعُ بْنُ أَبِي أَنَسٍ ، أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا دَخَلَ رَمَضَانُ " بِمِثْلِهِ .
مذکورہ بالا حدیث اس سند سے بھی مروی ہے۔
صحیح مسلم حدیث ۲۴۹۷ کا خلاصہ
یہ حدیث پچھلی روایت کے معنی میں ہے اور اس میں الفاظ آتے ہیں کہ جب رمضان داخل ہوتا ہے تو یہی مضمون پیش آتا ہے: رحمت یا جنت کے دروازے کھلتے ہیں، جہنم کے دروازے بند ہوتے ہیں اور شیاطین باندھے جاتے ہیں۔ چونکہ یہ اسی مضمون کی روایت ہے، اس لیے اس کا اصل پیغام بھی رمضان کی فضیلت ہے۔ رمضان کو معمولی مہینہ سمجھ کر گزار دینا درست رویہ نہیں۔ حدیث بندے کو بتاتی ہے کہ یہ وقت اللہ کی رحمت کی طرف بڑھنے کا ہے۔ اس میں انسان اپنے روزے، نماز، تلاوت، دعا اور اچھے اخلاق پر زیادہ دھیان دے سکتا ہے۔ حدیث میں جو بشارت آئی ہے، وہ امید دلاتی ہے، مگر ساتھ ہی عمل کی طرف بھی بلاتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- رمضان شروع ہوتے ہی نیکی کا ماحول خاص بن جاتا ہے۔
- رحمت کے دروازوں کا ذکر امید پیدا کرتا ہے۔
- برائی سے بچنے کے لیے بندے کی اپنی کوشش بھی ضروری ہے۔
- رمضان کو عبادت اور اصلاح کے موقع کے طور پر لینا چاہیے۔
