صحیح مسلم حدیث ۲۴۹۸ - چاند دیکھ کر روزہ اور عید
چاند دیکھ کر روزہ رکھو: رمضان کا آسان حکم
صحیح مسلم : ۲۴۹۸
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۴۹۸
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ ذَكَرَ رَمَضَانَ ، فَقَالَ : " لَا تَصُومُوا حَتَّى تَرَوْا الْهِلَالَ ، وَلَا تُفْطِرُوا حَتَّى تَرَوْهُ ، فَإِنْ أُغْمِيَ عَلَيْكُمْ ، فَاقْدِرُوا لَهُ " .
عبداللہ بن عمر روایت:
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ذکر کیا رمضان کا اور فرمایا: ”نہ روزہ رکھو اور نہ افطار کرو جب تک کہ چاند دیکھ لو۔ پھر اگر بدلی ہو جائے تو تیس دن پورے کرو۔“ (یعنی خواہ شعبان کے خواہ رمضان کے)۔
صحیح مسلم حدیث ۲۴۹۸ کا خلاصہ
اس حدیث کا موضوع رمضان کا چاند اور روزہ شروع کرنے کا حکم ہے۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلى الله عليه وسلم نے رمضان کا ذکر کیا اور فرمایا: جب تک چاند نہ دیکھ لو روزہ نہ رکھو، اور جب تک چاند نہ دیکھ لو افطار یعنی رمضان ختم نہ کرو۔ اگر بدلی ہو جائے تو تیس دن پورے کرو۔ اس حدیث میں رمضان کے آغاز اور اختتام کا سادہ اصول بیان ہوا ہے۔ روزہ اندازے، جلدی یا خواہش سے شروع نہیں کیا جاتا، بلکہ چاند دیکھنے یا مہینے کی گنتی پوری کرنے سے کیا جاتا ہے۔ اس سے عبادت میں نظم آتا ہے اور لوگوں کو ایک صاف طریقہ ملتا ہے۔ حدیث میں بدلی کی صورت بھی بتا دی گئی، تاکہ شک میں فیصلہ نہ کیا جائے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- رمضان کا آغاز چاند دیکھنے سے کیا جائے۔
- عید یا افطار کا فیصلہ بھی چاند دیکھنے سے ہوگا۔
- بدلی ہو تو تیس دن پورے کیے جائیں۔
- عبادت میں اندازے کے بجائے واضح طریقہ اختیار کیا جائے۔
