صحیح مسلم حدیث ۲۴۹۹ - رمضان کا مہینہ انتیس یا تیس دن

رمضان کا چاند: مہینہ انتیس بھی ہو سکتا ہے

صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۴۹۹

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرَ رَمَضَانَ ، فَضَرَبَ بِيَدَيْهِ ، فَقَالَ : " الشَّهْرُ هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا ، ثُمَّ عَقَدَ إِبْهَامَهُ فِي الثَّالِثَةِ ، فَصُومُوا لِرُؤْيَتِهِ وَأَفْطِرُوا لِرُؤْيَتِهِ ، فَإِنْ أُغْمِيَ عَلَيْكُمْ فَاقْدِرُوا لَهُ ثَلَاثِينَ " ،

عبداللہ بن عمر روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ذکر کیا رمضان کا اور اشارہ کیا اپنے دونوں ہاتھوں سے (یعنی دس انگلیوں سے) اور فرمایا: ”مہینہ ایسا ہے، ایسا ہے، ایسا ہے اور بند کر لیا انگوٹھے کو تیسری بار (یعنی انتیس دن کا ہوتا ہے) اور فرمایا: روزہ رکھو چاند دیکھ کر اور افطار کرو چاند دیکھ کر پھر اگر تم پر بدلی ہو تو گن لو پورے تیس دن۔“

صحیح مسلم حدیث ۲۴۹۹ کا خلاصہ

اس حدیث میں رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے رمضان کا ذکر کرتے ہوئے ہاتھوں کے اشارے سے مہینے کی گنتی سمجھائی اور تیسری بار انگوٹھا بند کر کے بتایا کہ مہینہ انتیس دن کا بھی ہوتا ہے۔ پھر فرمایا کہ چاند دیکھ کر روزہ رکھو اور چاند دیکھ کر افطار کرو، اور اگر بدلی ہو تو پورے تیس دن گن لو۔ اس روایت میں دو باتیں بہت صاف ہیں۔ پہلی یہ کہ قمری مہینہ ہر بار لازماً تیس دن کا نہیں ہوتا۔ دوسری یہ کہ روزہ اور عید کا تعلق چاند دیکھنے سے ہے۔ اگر چاند نظر نہ آئے اور آسمان ابر آلود ہو تو الجھنے کے بجائے گنتی پوری کرنی ہے۔ یہ حدیث رمضان کے چاند، روزہ اور عید کے مسئلے کو عام فہم انداز میں واضح کرتی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • قمری مہینہ انتیس دن کا بھی ہو سکتا ہے۔
  • روزہ شروع کرنے کا تعلق چاند دیکھنے سے ہے۔
  • رمضان ختم کرنے میں بھی چاند کا اعتبار ہے۔
  • بدلی کی صورت میں تیس دن پورے کرنا بتایا گیا ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں