صحیح مسلم حدیث ۲۵۰۰ - بدلی ہو تو تیس دن پورے کرو
چاند نہ دکھے تو کیا کریں؟ تیس دن پورے کرو
صحیح مسلم : ۲۵۰۰
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۵۰۰
وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ ، وَقَالَ : " فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَاقْدِرُوا ثَلَاثِينَ " ، نَحْوَ حَدِيثِ أَبِي أُسَامَةَ ،
مذکورہ بالا حدیث اس سند سے بھی مروی ہے۔
صحیح مسلم حدیث ۲۵۰۰ کا خلاصہ
یہ حدیث پچھلی روایت ہی کے مضمون کی تائید کرتی ہے۔ اس میں الفاظ ہیں کہ اگر تم پر بدلی ہو جائے تو تیس دن پورے گن لو۔ اس کا اصل تعلق رمضان کے چاند اور روزے کے آغاز و اختتام سے ہے۔ جب چاند صاف نظر آ جائے تو اسی کے مطابق روزہ یا عید کا فیصلہ کیا جائے گا۔ لیکن اگر آسمان پر بادل ہوں اور چاند نظر نہ آئے، تو شک اور بحث میں پڑنے کے بجائے مہینے کی گنتی مکمل کی جائے۔ یہ طریقہ بہت آسان اور عملی ہے۔ حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ عبادت میں واضح حکم کے ساتھ چلنا چاہیے۔ نہ جلد بازی، نہ بے بنیاد اندازہ؛ بلکہ چاند یا مکمل گنتی۔ یہی اس روایت کا صاف پیغام ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- چاند نظر نہ آئے تو تیس دن پورے کیے جائیں۔
- شک کی حالت میں جلدی فیصلہ نہیں کیا جاتا۔
- روزہ اور عید کا معاملہ واضح علامت پر رکھا گیا ہے۔
- عبادت میں نظم اور احتیاط دونوں ضروری ہیں۔
