صحیح مسلم حدیث ۲۵۰۱ - رمضان کا مہینہ انتیس بھی ہوتا ہے

رمضان کا مہینہ انتیس دن بھی ہو سکتا ہے

صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۵۰۱

وحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ ، وَقَالَ ذَكَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَمَضَانَ ، فَقَالَ : " الشَّهْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ الشَّهْرُ هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا ، وَقَالَ : فَاقْدِرُوا لَهُ " ، وَلَمْ يَقُلْ ثَلَاثِينَ .

عبیداللہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کا ذکر کیا اور فرمایا: ”مہینہ انتیس کا بھی ہوتا ہے اور ہاتھ سے اشارہ کیا کہ ایسا، ایسا، ایسا اور فرمایا: ”اندازہ کرو اس کا۔“ اور تیس کا لفظ نہیں فرمایا۔

صحیح مسلم حدیث ۲۵۰۱ کا خلاصہ

اس حدیث کا اصل موضوع رمضان کا چاند اور قمری مہینے کی گنتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کا ذکر فرمایا اور سمجھایا کہ مہینہ انتیس دن کا بھی ہوتا ہے۔ روایت میں ہاتھ کے اشارے کا ذکر ہے، یعنی بات صرف لفظوں سے نہیں بلکہ آسان انداز میں بھی سمجھائی گئی۔ یہاں خاص بات یہ ہے کہ راوی نے بتایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے “تیس” کا لفظ نہیں فرمایا، بلکہ “اندازہ کرو اس کا” فرمایا۔ اس سے یہ سبق ملتا ہے کہ رمضان کی ابتدا اور اختتام میں جلد بازی یا اپنی طرف سے قطعی بات کہنا درست انداز نہیں۔ چاند دیکھ کر روزہ، رویت ہلال حدیث، رمضان کا چاند، اور مہینہ انتیس دن کا جیسے موضوعات اسی تعلیم سے جڑے ہیں۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • قمری مہینہ انتیس دن کا بھی ہو سکتا ہے۔
  • رمضان کے معاملے میں چاند اور گنتی کو اہم سمجھنا چاہیے۔
  • حدیث کے الفاظ نقل کرتے وقت وہی بات بیان کرنی چاہیے جو روایت میں آئی ہو۔
  • دینی بات سمجھانے میں آسان اشارہ اور واضح انداز بھی مفید ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں