صحیح مسلم حدیث ۲۵۱۱ - امی امت اور مہینہ
ہم امی امت ہیں: مہینہ انتیس بھی اور تیس بھی
صحیح مسلم : ۲۵۱۱
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۵۱۱
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، عَنْ شُعْبَةَ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ عَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يُحَدِّثُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّا أُمَّةٌ أُمِّيَّةٌ ، لَا نَكْتُبُ وَلَا نَحْسُبُ الشَّهْرُ هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا ، وَعَقَدَ الْإِبْهَامَ فِي الثَّالِثَةِ ، وَالشَّهْرُ هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا يَعْنِي تَمَامَ ثَلَاثِينَ " ،
عبداللہ بن عمر روایت:
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہم لوگ امی ہیں، نہ لکھتے ہیں، نہ حساب کرتے ہیں، مہینہ تو ایسا ہوتا ہے، ایسا ہوتا ہے، ایسا ہوتا ہے۔“ اور تیسری بار میں انگوٹھا بند کر لیا اور فرمایا ”مہینہ ایسا ہوتا ہے، ایسا ہوتا ہے، ایسا ہوتا ہے۔ یعنی تیس دن پورے ہوتے ہیں۔“
صحیح مسلم حدیث ۲۵۱۱ کا خلاصہ
اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہم امی امت ہیں، نہ لکھتے ہیں، نہ حساب کرتے ہیں۔ پھر آپ نے ہاتھ کے اشارے سے مہینے کی گنتی سمجھائی: ایک صورت میں تیسری بار انگوٹھا بند کیا، یعنی انتیس؛ اور دوسری صورت میں تین بار پورا اشارہ کیا، یعنی تیس دن پورے۔ اس روایت کا اصل موضوع قمری مہینے کی سادہ گنتی ہے۔ اسے پڑھ کر یہ بات سمجھ آتی ہے کہ مہینہ کبھی انتیس دن کا اور کبھی تیس دن کا ہو سکتا ہے۔ “مہینہ انتیس دن کا”، “اسلامی مہینہ تیس دن”، “رمضان کا چاند”، اور “رویت ہلال حدیث” جیسے الفاظ اسی مضمون سے جڑے ہیں۔ یہاں بات کو متن کے دائرے میں رکھنا چاہیے: روایت نے گنتی کا آسان طریقہ بتایا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- امت کے لیے مہینے کی گنتی آسان انداز میں بیان ہوئی۔
- قمری مہینہ انتیس دن کا بھی ہو سکتا ہے۔
- قمری مہینہ تیس دن پورا بھی ہو سکتا ہے۔
- حدیث میں لکھنے اور حساب کرنے کے بجائے سادہ اشارے کا ذکر ہے۔
