صحیح مسلم حدیث ۲۵۱۲ - مہینے کی گنتی
اسی مضمون کی روایت: مہینے کی گنتی میں لفظی فرق
صحیح مسلم : ۲۵۱۲
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۵۱۲
وحَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ ، وَلَمْ يَذْكُرْ لِلشَّهْرِ الثَّانِي ثَلَاثِينَ .
مذکورہ بالا حدیث اس سند سے بھی مروی ہے۔ لیکن اس حدیث میں دوسری دفعہ تیس کی گنتی پوری نہیں۔
صحیح مسلم حدیث ۲۵۱۲ کا خلاصہ
یہ روایت پچھلی حدیث کے اسی مضمون کو دوسری سند سے بیان کرتی ہے، مگر اس میں ایک اہم لفظی فرق بتایا گیا ہے: دوسری دفعہ مہینے کے لیے تیس کی گنتی پوری ذکر نہیں ہوئی۔ اس طرح کی روایت ہمیں حدیث پڑھتے ہوئے ایک اہم ادبی اور علمی احتیاط سکھاتی ہے کہ ایک ہی مضمون کی روایات میں الفاظ کبھی کچھ مختلف انداز سے آتے ہیں۔ اس حدیث کا مرکزی موضوع قمری مہینے کی گنتی ہے، خاص طور پر مہینہ انتیس دن کا یا تیس دن کا سمجھنے کا معاملہ۔ چونکہ متن میں صرف اتنا بتایا گیا ہے کہ دوسری بار تیس کا ذکر نہیں آیا، اس لیے وضاحت بھی اسی حد تک رکھنی چاہیے۔ “مہینہ انتیس دن”، “قمری مہینہ حدیث”، اور “روایت کے الفاظ” اس کے مناسب سرچ موضوعات ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ایک ہی مضمون کی روایت میں لفظی فرق آ سکتا ہے۔
- حدیث بیان کرتے وقت فرق کو واضح کرنا امانت ہے۔
- مرکزی موضوع قمری مہینے کی گنتی ہے۔
- جو لفظ روایت میں نہ آیا ہو، اسے یقینی انداز میں نہ جوڑا جائے۔
