صحیح مسلم حدیث ۲۵۰۸ - دس، دس اور نو دن

مہینہ دس، دس اور نو دن: انتیس دن کی آسان وضاحت

صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۵۰۸

وحَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ عُثْمَانَ ، حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْبَكَّائِيُّ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عنهما ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الشَّهْرُ هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا ، عَشْرًا وَعَشْرًا وَتِسْعًا " .

عبداللہ بن عمر روایت:

مہینہ ایسا ہے، ایسا ہے، ایسا ہے یعنی دس اور دس اور نو دن کا۔“

صحیح مسلم حدیث ۲۵۰۸ کا خلاصہ

اس حدیث میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مہینہ ایسا ہے، ایسا ہے، ایسا ہے، یعنی دس اور دس اور نو دن۔ یہ انداز بہت آسان ہے: دو بار دس دن، اور تیسری بار نو دن، کل انتیس دن۔ اس روایت کا اصل موضوع مہینہ انتیس دن کا ہونا ہے۔ اس میں روزے کے آغاز یا عید کے حکم کی تفصیل نہیں، بلکہ قمری مہینے کی تعداد کو سمجھایا گیا ہے۔ جو لوگ رمضان کا مہینہ انتیس دن، قمری مہینہ کتنے دن کا ہوتا ہے، یا اسلامی مہینے کی گنتی تلاش کرتے ہیں، ان کے لیے یہ حدیث سیدھی رہنمائی دیتی ہے۔ بات کا خلاصہ یہ ہے کہ مہینہ کبھی انتیس دن کا بھی ہوتا ہے، اور اسے آسان گنتی کے ذریعے سمجھایا گیا۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • مہینہ دس، دس اور نو دن ہو کر انتیس دن بن سکتا ہے۔
  • حدیث میں گنتی آسان انداز سے سمجھائی گئی ہے۔
  • قمری مہینے کی تعداد ہمیشہ تیس نہیں ہوتی۔
  • اس روایت کا مرکزی پیغام مہینے کی گنتی ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں