صحیح مسلم حدیث ۲۵۰۹ - انگوٹھا بند کر کے گنتی
انگوٹھا بند کر کے مہینہ انتیس دن بتانا
صحیح مسلم : ۲۵۰۹
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۵۰۹
وحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ جَبَلَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الشَّهْرُ كَذَا وَكَذَا وَكَذَا ، وَصَفَّقَ بِيَدَيْهِ مَرَّتَيْنِ بِكُلِّ أَصَابِعِهِمَا ، وَنَقَصَ فِي الصَّفْقَةِ الثَّالِثَةِ إِبْهَامَ الْيُمْنَى أَوِ الْيُسْرَى " .
عبداللہ بن عمر روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مہینہ ایسا، ایسا، ایسا ہے۔“ اور اپنے دونوں ہاتھ مارے دو بار اور سب انگلیاں کھلی رکھیں اور تیسری بار انگوٹھا دایاں یا بایاں کم کر دیا (یعنی بند کر دیا اشارہ ہوا انتیس کا)۔
صحیح مسلم حدیث ۲۵۰۹ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مہینہ ایسا، ایسا، ایسا ہے۔ پھر روایت میں ہاتھوں سے اشارہ کرنے کی تفصیل آئی کہ دو بار سب انگلیوں کے ساتھ ہاتھ ملائے گئے، اور تیسری بار دائیں یا بائیں انگوٹھے کو کم کر دیا گیا۔ اس سے انتیس دن کی طرف اشارہ تھا۔ یہ روایت بتاتی ہے کہ قمری مہینے کی گنتی عام فہم انداز میں سمجھائی گئی۔ یہاں اصل بات رمضان کا چاند یا عید کی تفصیل نہیں، بلکہ مہینہ انتیس دن کا بھی ہو سکتا ہے۔ “مہینہ انتیس دن”، “قمری مہینہ حدیث”، اور “رویت ہلال” جیسے موضوعات میں یہ روایت بنیادی مدد دیتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ہاتھ کے اشارے سے انتیس دن کی گنتی سمجھائی گئی۔
- قمری مہینہ انتیس دن کا بھی ہوتا ہے۔
- نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تعلیم میں آسان انداز اختیار فرمایا۔
- روایت میں دائیں یا بائیں انگوٹھے کے کم کرنے کا ذکر ہے۔
