صحیح مسلم حدیث ۲۵۰۷ - مہینہ انتیس دن
مہینہ انتیس کا بھی ہوتا ہے: مختصر حدیث
صحیح مسلم : ۲۵۰۷
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۵۰۷
وحَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ ، حَدَّثَنَا حَسَنٌ الْأَشْيَبُ حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ يَحْيَى ، قَالَ : وَأَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " الشَّهْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ " .
ابن عمر روایت:
مہینہ انتیس کا بھی ہوتا ہے۔“
صحیح مسلم حدیث ۲۵۰۷ کا خلاصہ
یہ حدیث بہت مختصر ہے، مگر اس کا پیغام واضح ہے۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: مہینہ انتیس کا بھی ہوتا ہے۔ اس ایک جملے سے قمری مہینے کے بارے میں اہم بات سمجھ آتی ہے کہ ہر مہینہ لازمی طور پر تیس دن کا نہیں سمجھا جائے گا۔ رمضان کا چاند، رویت ہلال، عید کا چاند، اور مہینہ انتیس دن کا جیسے موضوعات اسی اصول سے جڑے ہیں۔ اس حدیث میں کوئی اضافی شرط یا تفصیل نہیں، اس لیے وضاحت بھی اسی حد تک رہنی چاہیے۔ عام زبان میں بات یہ ہے کہ قمری مہینے کی گنتی میں انتیس دن ہونا ایک ثابت امکان ہے، جسے رمضان اور دیگر مہینوں کی سمجھ میں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- قمری مہینہ انتیس دن کا بھی ہو سکتا ہے۔
- ہر مہینے کو لازمی تیس دن سمجھنا درست نہیں۔
- مختصر حدیث بھی بڑی اہم بات سمجھا سکتی ہے۔
- حدیث کے الفاظ میں جو بات ہے، اسی کو اصل بنایا جائے۔
