صحیح مسلم حدیث ۲۵۰۵ - انتیس راتیں اور رمضان

رمضان کا مہینہ انتیس راتوں کا بھی ہوتا ہے

صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۵۰۵

وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَيَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَابْنُ حُجْرٍ ، قَالَ يَحْيَى بْنُ يَحْيَى أَخْبَرَنَا ، وقَالَ الْآخَرُونَ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الشَّهْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ لَيْلَةً ، لَا تَصُومُوا حَتَّى تَرَوْهُ ، وَلَا تُفْطِرُوا حَتَّى تَرَوْهُ ، إِلَّا أَنْ يُغَمَّ عَلَيْكُمْ ، فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَاقْدِرُوا لَهُ " .

‏‏‏‏ ترجمہ وہی ہے جو اوپر گزرا لیکن اس میں «تِسْعٌ وَعِشْرُونَ» ‏‏‏‏ کے ساتھ «لَيْلَةً» کا لفظ بھی ہے۔

صحیح مسلم حدیث ۲۵۰۵ کا خلاصہ

اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مہینہ انتیس راتوں کا ہوتا ہے، پھر یہ ہدایت دی کہ جب تک چاند نہ دیکھو روزہ نہ رکھو اور جب تک چاند نہ دیکھو افطار نہ کرو۔ اگر چاند تم پر چھپ جائے تو اس کے لیے گنتی کرو۔ اس روایت میں “انتیس راتیں” کا ذکر خاص ہے، جو قمری مہینے کی سمجھ کو آسان بناتا ہے۔ عام مسلمان کے لیے پیغام یہ ہے کہ رمضان کا چاند دیکھنا ایک سنجیدہ معاملہ ہے، اور عید کا چاند بھی اسی اصول کے تحت دیکھا جاتا ہے۔ چاند دیکھ کر روزہ، رویت ہلال، اور ماہ رمضان کی گنتی جیسے الفاظ اسی حدیث کے اصل موضوع سے جڑے ہیں، مگر بات کو متن سے آگے نہیں بڑھانا چاہیے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • قمری مہینہ انتیس راتوں کا بھی ہو سکتا ہے۔
  • روزہ شروع کرنے میں چاند دیکھنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
  • رمضان ختم کرنے کے لیے بھی چاند دیکھنے کا ذکر ہے۔
  • چاند چھپ جائے تو گنتی کرنے کی تعلیم ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں