صحیح مسلم حدیث ۲۵۰۳ - رویت ہلال اور روزہ

رویت ہلال: چاند نظر آئے تو روزہ اور افطار

صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۵۰۳

وحَدَّثَنِي حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ الْبَاهِلِيُّ ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، حَدَّثَنَا سَلَمَةُ وَهُوَ ابْنُ عَلْقَمَةَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الشَّهْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ ، فَإِذَا رَأَيْتُمُ الْهِلَالَ فَصُومُوا ، وَإِذَا رَأَيْتُمُوهُ فَأَفْطِرُوا ، فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَاقْدِرُوا لَهُ " .

‏‏‏‏ ترجمہ وہی ہے جو اوپر گزرا۔

صحیح مسلم حدیث ۲۵۰۳ کا خلاصہ

اس روایت میں بھی رمضان کے چاند اور روزے کے آغاز و اختتام کی وہی بنیادی تعلیم بیان ہوئی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مہینہ انتیس دن کا ہوتا ہے، پھر فرمایا کہ جب تم ہلال دیکھو تو روزہ رکھو، اور جب اسے دیکھو تو افطار کرو۔ اگر بادل کی وجہ سے چاند نظر نہ آئے تو اس کے لیے گنتی کرو۔ اس حدیث میں “ہلال” کا لفظ خاص طور پر آیا ہے، اس لیے یہ رویت ہلال حدیث کے طور پر بہت زیادہ تلاش کی جاتی ہے۔ عام فہم بات یہ ہے کہ رمضان کا فیصلہ اپنی خواہش یا اندازے پر نہیں، بلکہ چاند دیکھنے یا گنتی پوری کرنے پر رکھا گیا ہے۔ یہی بات رمضان کا چاند، عید کا چاند، اور مہینہ انتیس دن کا جیسے سوالات میں اصل رہنمائی بنتی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • ہلال نظر آئے تو رمضان کا روزہ شروع کیا جائے۔
  • ہلال نظر آئے تو افطار یعنی رمضان ختم کیا جائے۔
  • بادل کی صورت میں گنتی کا اعتبار کیا گیا ہے۔
  • مہینہ ہمیشہ ایک ہی تعداد پر محدود نہیں کیا گیا۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں