صحیح مسلم حدیث ۲۵۰۴ - چاند نظر آئے تو روزہ
چاند نظر آئے تو روزہ، چاند نظر آئے تو افطار
صحیح مسلم : ۲۵۰۴
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۵۰۴
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِذَا رَأَيْتُمُوهُ فَصُومُوا ، وَإِذَا رَأَيْتُمُوهُ فَأَفْطِرُوا ، فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَاقْدِرُوا لَهُ " .
ترجمہ وہی ہے جو اوپر گزرا لیکن اس میں یہ ذکر نہیں کہ مہینہ انتیس دن کا ہوتا ہے۔
صحیح مسلم حدیث ۲۵۰۴ کا خلاصہ
اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مختصر مگر صاف فرمان نقل ہوا ہے کہ جب چاند دیکھو تو روزہ رکھو، اور جب چاند دیکھو تو افطار کرو۔ اگر چاند تم پر چھپ جائے، یعنی بادل یا ایسی کوئی رکاوٹ ہو، تو اس کے لیے گنتی کرو۔ اس روایت میں مہینہ انتیس دن کا ہونے کا لفظ نہیں آیا، اس لیے اس کی بات کو اسی حد تک سمجھنا چاہیے جو متن میں ہے۔ اصل پیغام رویت ہلال ہے: رمضان شروع کرنے اور ختم کرنے میں چاند کو بنیاد بنایا گیا ہے۔ یہ حدیث ان لوگوں کے لیے بھی مفید ہے جو “چاند دیکھ کر روزہ”، “رمضان کا چاند”، یا “بادل میں روزہ کیسے رکھیں” جیسے سوالات تلاش کرتے ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- روزہ شروع کرنے کا تعلق چاند دیکھنے سے بیان ہوا ہے۔
- افطار یا رمضان کے اختتام کا تعلق بھی چاند دیکھنے سے ہے۔
- چاند چھپ جائے تو گنتی کرنے کی ہدایت ہے۔
- روایت میں جو الفاظ آئے ہیں، انہیں اسی حد تک بیان کرنا چاہیے۔
