صحیح مسلم حدیث ۲۵۱۴ - چاند دیکھ کر روزہ
چاند دیکھو تو روزہ رکھو، چاند دیکھو تو افطار کرو
صحیح مسلم : ۲۵۱۴
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۵۱۴
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا رَأَيْتُمُ الْهِلَالَ فَصُومُوا ، وَإِذَا رَأَيْتُمُوهُ فَأَفْطِرُوا ، فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَصُومُوا ثَلَاثِينَ يَوْمًا " .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جب تم چاند دیکھو تو روزہ رکھو اور جب تم اس کو دیکھو تب ہی افطار بھی کرو، پھر اگر بدلی ہو جائے تو تیس روزے پورے رکھ لو۔“
صحیح مسلم حدیث ۲۵۱۴ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم چاند دیکھو تو روزہ رکھو، اور جب تم اسے دیکھو تو افطار کرو۔ اگر بدلی ہو جائے تو تیس روزے پورے رکھو۔ یہ روایت رمضان کے چاند اور عید کے چاند دونوں کے بارے میں بہت واضح ہے۔ اس میں اصل بات یہ ہے کہ روزہ اور افطار چاند دیکھنے سے وابستہ ہیں، اور جب چاند نظر نہ آئے تو تیس دن پورے کیے جائیں۔ عام لوگ جب “چاند دیکھ کر روزہ”، “رویت ہلال حدیث”، “بادل ہوں تو تیس روزے”، یا “عید کا چاند حدیث” تلاش کرتے ہیں تو یہی تعلیم سامنے آتی ہے۔ اس میں اندازے کے بجائے واضح طریقہ بتایا گیا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- رمضان شروع کرنے کے لیے چاند دیکھنے کا ذکر ہے۔
- رمضان ختم کرنے کے لیے بھی چاند دیکھنے کا ذکر ہے۔
- بدلی ہو تو تیس روزے پورے رکھنے کی ہدایت ہے۔
- حدیث روزے کے معاملے میں واضح اور عملی طریقہ بتاتی ہے۔
