صحیح مسلم حدیث ۲۵۰۲ - چاند دیکھ کر روزہ رکھو
چاند دیکھ کر روزہ رکھو اور چاند دیکھ کر افطار کرو
صحیح مسلم : ۲۵۰۲
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۵۰۲
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّمَا الشَّهْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ ، فَلَا تَصُومُوا حَتَّى تَرَوْهُ ، وَلَا تُفْطِرُوا حَتَّى تَرَوْهُ ، فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَاقْدِرُوا لَهُ " .
ابن عمر روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مہینہ انتیس دن کا ہوتا ہے، تم روزہ رکھو چاند دیکھ کر اور افطار کرو چاند دیکھ کر، پس اگر بادل ہوں تو تیس دن پورے کر لو۔“
صحیح مسلم حدیث ۲۵۰۲ کا خلاصہ
یہ حدیث رمضان کے روزے اور رویت ہلال کے بارے میں نہایت صاف ہدایت دیتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مہینہ انتیس دن کا ہوتا ہے، پھر فرمایا کہ جب تک چاند نہ دیکھ لو روزہ شروع نہ کرو، اور جب تک چاند نہ دیکھ لو افطار یعنی عید نہ کرو۔ اگر بادل یا کوئی رکاوٹ ہو جائے تو گنتی پوری کر لو۔ اس میں عام مسلمان کے لیے بہت آسان بات ہے: رمضان کا چاند دیکھنا، روزہ چاند دیکھ کر رکھنا، اور عید کا فیصلہ بھی چاند دیکھ کر کرنا۔ حدیث ہمیں اندازے، جلدی، یا بے بنیاد دعوے کے بجائے واضح علامت اور مکمل گنتی کی طرف لے جاتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- روزہ شروع کرنے میں چاند دیکھنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
- رمضان ختم کرنے کا تعلق بھی چاند دیکھنے سے رکھا گیا ہے۔
- بادل ہوں تو گنتی پوری کرنا حدیث میں آیا ہے۔
- قمری مہینہ انتیس دن کا بھی ہو سکتا ہے۔
