صحیح مسلم حدیث ۲۵۱۵ - رویت پر روزہ
رویت ہلال کے مطابق روزہ اور افطار
صحیح مسلم : ۲۵۱۵
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۵۱۵
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَلَّامٍ الْجُمَحِيُّ ، حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ يَعْنِي ابْنَ مُسْلِمٍ ، عَنْ مُحَمَّدٍ وَهُوَ ابْنُ زِيَادٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " صُومُوا لِرُؤْيَتِهِ وَأَفْطِرُوا لِرُؤْيَتِهِ ، فَإِنْ غُمِّيَ عَلَيْكُمْ فَأَكْمِلُوا الْعَدَدَ " .
ابوہریرہ روایت:
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”روزہ رکھو چاند دیکھ کر اور افطار کرو چاند دیکھ کر اور اگر بدلی ہو جائے تو گنتی پوری کر دو۔“ (یعنی تیس کی)۔
صحیح مسلم حدیث ۲۵۱۵ کا خلاصہ
اس حدیث میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: روزہ رکھو چاند دیکھ کر، اور افطار کرو چاند دیکھ کر۔ اگر بدلی ہو جائے تو گنتی پوری کر دو۔ یہ الفاظ مختصر ہیں، مگر رمضان کے عملی معاملے میں بڑی رہنمائی دیتے ہیں۔ یہاں “گنتی پوری کر دو” سے مراد ترجمے کے مطابق تیس کی گنتی ہے۔ اصل پیغام یہ ہے کہ رمضان کا آغاز اور اختتام چاند کی رویت سے جوڑا گیا ہے، اور جب چاند نظر نہ آئے تو تعداد پوری کی جائے۔ اس حدیث کو تلاش کرنے والے عموماً “رویت ہلال”، “چاند دیکھ کر روزہ”، “رمضان کا چاند”، اور “چاند نہ دکھے تو کیا کریں” جیسے الفاظ استعمال کرتے ہیں۔ وضاحت میں متن سے باہر کوئی اضافی دعویٰ شامل نہیں کرنا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- روزہ چاند دیکھ کر رکھنے کی ہدایت ہے۔
- افطار یعنی رمضان ختم کرنا بھی چاند دیکھ کر بتایا گیا ہے۔
- بدلی کی صورت میں گنتی پوری کرنے کا حکم ہے۔
- حدیث مختصر الفاظ میں رمضان کا عملی طریقہ سمجھاتی ہے۔
