صحیح مسلم حدیث ۲۵۱۶ - بادل میں گنتی
بادل ہوں تو تیس دن شمار کرو
صحیح مسلم : ۲۵۱۶
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۵۱۶
وحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " صُومُوا لِرُؤْيَتِهِ وَأَفْطِرُوا لِرُؤْيَتِهِ ، فَإِنْ غُمِّيَ عَلَيْكُمُ الشَّهْرُ ، فَعُدُّوا ثَلَاثِينَ " .
ترجمہ وہی ہے جو اوپر گزرا۔
صحیح مسلم حدیث ۲۵۱۶ کا خلاصہ
اس روایت میں سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے وہی مضمون نقل ہوا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: چاند دیکھ کر روزہ رکھو اور چاند دیکھ کر افطار کرو۔ پھر فرمایا کہ اگر مہینہ تم پر بادل کی وجہ سے چھپ جائے تو تیس شمار کرو۔ یہ حدیث رویت ہلال کے مسئلے کو عام فہم انداز میں بیان کرتی ہے۔ اس میں روزہ، افطار، چاند، بادل، اور گنتی کے الفاظ ایک ہی عملی اصول کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ مسلمان جب رمضان کا چاند نہ دیکھ سکیں تو حدیث کے مطابق گنتی پوری کرنے کا ذکر آتا ہے۔ “بادل ہوں تو تیس دن”، “چاند نہ دکھے تو روزہ”، اور “رویت ہلال حدیث” اس کے اہم سرچ موضوعات ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- روزہ اور افطار کو چاند دیکھنے سے جوڑا گیا ہے۔
- بادل کی وجہ سے چاند چھپ جائے تو تیس دن شمار کرنے کا ذکر ہے۔
- رمضان کے معاملے میں واضح گنتی کو اہمیت دی گئی ہے۔
- حدیث میں غیر ضروری اندازے کے بجائے صاف طریقہ بتایا گیا ہے۔
