صحیح مسلم حدیث ۲۵۱۷ - ہلال کا ذکر
ہلال دیکھنے پر روزہ اور افطار کی حدیث
صحیح مسلم : ۲۵۱۷
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۵۱۷
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ الْعَبْدِيُّ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : ذَكَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْهِلَالَ ، فَقَالَ : " إِذَا رَأَيْتُمُوهُ فَصُومُوا ، وَإِذَا رَأَيْتُمُوهُ فَأَفْطِرُوا ، فَإِنْ أُغْمِيَ عَلَيْكُمْ فَعُدُّوا ثَلَاثِينَ " .
ترجمہ وہی ہے جو اوپر گزرا۔
صحیح مسلم حدیث ۲۵۱۷ کا خلاصہ
اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہلال کا ذکر فرمایا، پھر بتایا کہ جب اسے دیکھو تو روزہ رکھو، اور جب اسے دیکھو تو افطار کرو۔ اگر چاند تم پر چھپ جائے تو تیس شمار کرو۔ اس روایت میں “ہلال” کا لفظ اسے رویت ہلال کے موضوع سے بہت قریب کر دیتا ہے۔ عام فہم بات یہ ہے کہ رمضان کے آغاز اور اختتام میں چاند دیکھنے کی واضح علامت رکھی گئی ہے۔ اگر چاند نظر نہ آئے تو گنتی پوری کرنے کی طرف رہنمائی ہے۔ “ہلال دیکھ کر روزہ”، “چاند دیکھ کر افطار”، “عید کا چاند حدیث”، اور “رمضان کا چاند” جیسے الفاظ اس حدیث کے لیے مناسب ہیں۔ وضاحت میں صرف وہی بات رکھی گئی ہے جو روایت کے متن میں موجود ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ہلال دیکھنے پر روزہ رکھنے کا ذکر ہے۔
- ہلال دیکھنے پر افطار کرنے کا ذکر ہے۔
- چاند چھپ جائے تو تیس شمار کرنے کی ہدایت ہے۔
- رمضان کے معاملے میں چاند اور گنتی دونوں اہم ہیں۔
