صحیح مسلم حدیث ۲۵۱۸ - رمضان سے پہلے روزہ
رمضان سے پہلے ایک دو روزے رکھنے کی ممانعت
صحیح مسلم : ۲۵۱۸
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۵۱۸
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُبَارَكٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَقَدَّمُوا رَمَضَانَ بِصَوْمِ يَوْمٍ وَلَا يَوْمَيْنِ ، إِلَّا رَجُلٌ كَانَ يَصُومُ صَوْمًا فَلْيَصُمْهُ " ،
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رمضان سے پیشگی ایک دو روزہ مت رکھو مگر وہ شخص جو ہمیشہ ایک دن میں روزہ رکھا کرتا تھا ور وہی دن آ گیا تو خیر وہ رکھے اپنے مقرر دن میں۔“ (مثلاً جمعرات اور جمعہ کو روزہ رکھتا تھا اور انتیس اور تیس تاریخ میں شعبان کے وہی دن آ گئے تو وہ رکھ لے)۔
صحیح مسلم حدیث ۲۵۱۸ کا خلاصہ
اس حدیث کا مرکزی موضوع رمضان سے پہلے پیشگی روزہ رکھنا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ رمضان سے ایک دن یا دو دن پہلے روزہ نہ رکھو، مگر وہ شخص جو پہلے سے کسی دن روزہ رکھنے کا معمول رکھتا ہو، تو وہ اپنا وہ روزہ رکھ لے۔ اس میں رمضان کے استقبال کے نام پر اپنی طرف سے ایک یا دو روزے بڑھانے سے روک دیا گیا، لیکن معمول کے نفلی روزے کی گنجائش بھی بیان ہوئی۔ مثال کے طور پر متن کے ترجمے میں بتایا گیا کہ اگر کسی کا مقرر دن آ جائے تو وہ رکھ سکتا ہے۔ “رمضان سے پہلے روزہ”، “ایک دو دن پہلے روزہ”، “نفلی روزہ رمضان سے پہلے”، اور “لا تقدموا رمضان” اس حدیث کے اہم سرچ الفاظ ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- رمضان سے ایک یا دو دن پہلے پیشگی روزہ رکھنے سے منع کیا گیا ہے۔
- جس شخص کا پہلے سے معمول کا روزہ ہو، وہ اپنے مقرر دن کا روزہ رکھ سکتا ہے۔
- رمضان کے روزوں میں اپنی طرف سے اضافہ نہیں کرنا چاہیے۔
- حدیث میں منع کے ساتھ ایک واضح استثنا بھی بیان ہوا ہے۔
