سنن نسائی حدیث ۲۱۲۱ - رمضان اور شوال کا چاند
رمضان اور شوال کے چاند کا نبوی اصول
سنن نسائی : ۲۱۲۱
سنن نسائیحدیث نمبر ۲۱۲۱
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ النَّيْسَابُورِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا رَأَيْتُمُ الْهِلَالَ ، فَصُومُوا وَإِذَا رَأَيْتُمُوهُ ، فَأَفْطِرُوا ، فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ ، فَصُومُوا ثَلَاثِينَ يَوْمًا " .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم (رمضان کا) چاند دیکھو تو روزہ رکھو، اور جب (شوال کا) چاند دیکھو تو روزہ رکھنا بند کر دو، (اور) اگر تم پر مطلع ابر آلود ہو تو (پورے) تیس دن روزہ رکھو“۔
سنن نسائی حدیث ۲۱۲۱ کا خلاصہ
اس حدیث میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان اور شوال کے چاند سے متعلق صاف حکم دیا۔ فرمایا کہ جب تم رمضان کا چاند دیکھو تو روزہ رکھو، اور جب شوال کا چاند دیکھو تو روزہ رکھنا بند کر دو۔ اگر مطلع ابر آلود ہو تو پورے تیس دن روزہ رکھو۔ یہ حدیث رمضان کے آغاز اور اختتام دونوں کو ایک واضح اصول سے جوڑتی ہے۔ اس میں نہ جلد بازی ہے، نہ بے بنیاد اندازہ۔ مسلمان چاند دیکھنے کی کوشش کرتا ہے، اور اگر چاند نظر نہ آئے تو گنتی پوری کرتا ہے۔ یہ طریقہ عبادت میں نظم اور اطاعت دونوں سکھاتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- رمضان کا آغاز چاند دیکھنے سے کیا جاتا ہے۔
- شوال کا چاند دیکھ کر روزہ بند کیا جاتا ہے۔
- ابر کی صورت میں پورے تیس دن روزہ رکھنے کا حکم ہے۔
