سنن نسائی حدیث ۲۱۲۰ - بادل ہوں تو تیس دن پورے کرو
بادل چھا جائیں تو تیس دن پورے کرنے کی حدیث
سنن نسائی : ۲۱۲۰
سنن نسائیحدیث نمبر ۲۱۲۰
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ : حَدَّثَنَا وَرْقَاءُ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " صُومُوا لِرُؤْيَتِهِ ، وَأَفْطِرُوا لِرُؤْيَتِهِ ، فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَاقْدِرُوا ثَلَاثِينَ " .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چاند دیکھ کر روزہ رکھو، اور چاند دیکھ کر افطار کرو، (اور) اگر مطلع تم پر بادل چھائے ہوں تو تیس دن پورے کرو“۔
سنن نسائی حدیث ۲۱۲۰ کا خلاصہ
اس روایت میں بھی وہی بنیادی اصول آیا ہے کہ چاند دیکھ کر روزہ رکھو اور چاند دیکھ کر افطار کرو۔ اگر مطلع پر بادل چھائے ہوں اور چاند دکھائی نہ دے تو تیس دن پورے کرو۔ یہ حکم رمضان کے آغاز اور شوال کے آغاز دونوں میں نظم پیدا کرتا ہے۔ بندہ اپنے اندازے، خواہش یا جلدی پر نہیں چلتا، بلکہ واضح علامت یعنی چاند کی رؤیت یا پھر تیس دن کی گنتی کو بنیاد بناتا ہے۔ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ شریعت نے عبادت کے اوقات میں آسان اور قابل عمل طریقہ بتایا ہے، خاص طور پر جب موسم کی وجہ سے چاند نظر نہ آئے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- بادل کی صورت میں حکم تیس دن پورے کرنے کا ہے۔
- روزے اور عید کا معاملہ واضح طریقے سے جڑا ہے۔
- عبادت میں اندازے کے بجائے مقرر اصول کی پیروی ہونی چاہیے۔
