سنن نسائی حدیث ۲۱۱۹ - چاند دیکھ کر روزہ رکھو
چاند دیکھ کر روزہ رکھنے کا واضح اصول
سنن نسائی : ۲۱۱۹
سنن نسائیحدیث نمبر ۲۱۱۹
أَخْبَرَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ هِشَامٍ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " صُومُوا لِرُؤْيَتِهِ ، وَأَفْطِرُوا لِرُؤْيَتِهِ ، فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمُ الشَّهْرُ فَعُدُّوا ثَلَاثِينَ " .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چاند دیکھ کر روزے رکھو، اور چاند دیکھ کر افطار کرو، اگر مطلع ابر آلود ہو تو تیس (دن) پورے کرو“۔
سنن نسائی حدیث ۲۱۱۹ کا خلاصہ
اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے روزے کے آغاز اور اختتام کا آسان اصول بیان فرمایا: چاند دیکھ کر روزہ رکھو اور چاند دیکھ کر افطار کرو۔ اگر مطلع ابر آلود ہو اور چاند نظر نہ آئے تو تیس دن پورے کرو۔ یہ الفاظ رمضان اور عید کے معاملے میں بے جا اندازے کے بجائے صاف طریقہ بتاتے ہیں۔ مسلمان چاند کی رؤیت کو بنیاد بناتا ہے، اور جب آسمان صاف نہ ہو تو مہینے کی گنتی مکمل کرتا ہے۔ حدیث کا پیغام سادہ ہے: عبادت میں نظم، یقین اور حکم نبوی کی پیروی ہونی چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- روزے کا آغاز چاند دیکھنے سے کیا جاتا ہے۔
- افطار یعنی عید بھی چاند دیکھنے سے متعلق ہے۔
- ابر کی صورت میں تیس دن پورے کرنے کا حکم ہے۔
