سنن نسائی حدیث ۲۱۲۲ - چاند دیکھ کر روزہ رکھنے کا حکم
رمضان کا چاند دیکھ کر روزہ رکھنے کی حدیث
سنن نسائی : ۲۱۲۲
سنن نسائیحدیث نمبر ۲۱۲۲
أَخْبَرَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِذَا رَأَيْتُمُ الْهِلَالَ ، فَصُومُوا وَإِذَا رَأَيْتُمُوهُ ، فَأَفْطِرُوا ، فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَاقْدِرُوا لَهُ " .
عبداللہ بن عمر روایت:
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”جب تم چاند دیکھو تو روزہ رکھو، اور جب (شوال کا) چاند دیکھو تو روزہ رکھنا بند کر دو، (اور) اگر تم پر مطلع ابر آلود ہو تو اس کا اندازہ لگاؤ“۔
سنن نسائی حدیث ۲۱۲۲ کا خلاصہ
اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے روزے کے آغاز اور اختتام کا سادہ اصول بتایا ہے۔ جب رمضان کا چاند دیکھا جائے تو روزہ رکھا جائے، اور جب شوال کا چاند دیکھا جائے تو روزہ بند کیا جائے۔ اگر مطلع ابر آلود ہو اور چاند صاف نظر نہ آئے تو حدیث کے الفاظ کے مطابق اس کا اندازہ لگایا جائے۔ اس روایت کا اصل موضوع رمضان کا چاند، رویت ہلال اور روزہ رکھنے کا حکم ہے۔ اس میں جلد بازی یا اندازے سے رمضان شروع کرنے کی بات نہیں، بلکہ چاند دیکھنے کو بنیاد بنایا گیا ہے۔ مسلمان کے لیے یہ ہدایت بہت صاف ہے کہ عبادت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بتائے ہوئے طریقے کی پابندی کی جائے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- رمضان کا روزہ چاند دیکھنے کے بعد شروع کیا جائے۔
- شوال کا چاند دیکھنے کے بعد رمضان کے روزے ختم کیے جائیں۔
- بادل ہوں تو چاند کے معاملے میں حدیث کے بتائے ہوئے طریقے پر عمل کیا جائے۔
