سنن نسائی حدیث ۲۱۲۳ - رمضان کا آغاز چاند سے
رمضان کا آغاز چاند دیکھنے سے
سنن نسائی : ۲۱۲۳
سنن نسائیحدیث نمبر ۲۱۲۳
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ ، قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ وَاللَّفْظُ لَهُ ، عَنِ ابْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرَ رَمَضَانَ , فَقَالَ : " لَا تَصُومُوا حَتَّى تَرَوْا الْهِلَالَ ، وَلَا تُفْطِرُوا حَتَّى تَرَوْهُ ، فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَاقْدِرُوا لَهُ " .
عبداللہ بن عمر روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کا ذکر کیا تو فرمایا: ”تم روزہ نہ رکھو یہاں تک کہ چاند دیکھ لو، اور روزہ رکھنا بند کرو یہاں تک کہ (چاند) دیکھ لو، (اور) اگر فضا ابر آلود ہو تو اس کا حساب لگا لو“۔
سنن نسائی حدیث ۲۱۲۳ کا خلاصہ
اس روایت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کے بارے میں فرمایا کہ جب تک چاند نہ دیکھ لو روزہ شروع نہ کرو، اور جب تک شوال کا چاند نہ دیکھ لو روزہ بند نہ کرو۔ یہ بات عام فہم انداز میں روزے کے وقت کو واضح کرتی ہے۔ حدیث کا مرکزی لفظ رمضان کا چاند ہے، اسی لیے رویت ہلال کی حدیث تلاش کرنے والے لوگ اس روایت کو بہت اہم سمجھتے ہیں۔ اگر فضا ابر آلود ہو تو حدیث میں حساب لگانے کی ہدایت آئی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ روزے کا آغاز ذاتی اندازوں یا جلد بازی پر نہیں، بلکہ چاند دیکھنے یا مقررہ حساب پر رکھا گیا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- رمضان شروع کرنے سے پہلے چاند کا دیکھنا معتبر ہے۔
- روزہ ختم کرنے کے لیے بھی شوال کا چاند دیکھا جائے۔
- ابر آلود فضا میں مہینے کا حساب کیا جائے۔
