صحیح بخاری حدیث ۱۹۰۹ - چاند دیکھ کر روزہ اور عید کا حکم
چاند دیکھ کر روزہ شروع اور ختم کرنے کی حدیث
صحیح بخاری : ۱۹۰۹
صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۹۰۹
حَدَّثَنَا آدَمُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، يَقُولُ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَوْ قَالَ : قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " صُومُوا لِرُؤْيَتِهِ وَأَفْطِرُوا لِرُؤْيَتِهِ ، فَإِنْ غُبِّيَ عَلَيْكُمْ فَأَكْمِلُوا عِدَّةَ شَعْبَانَ ثَلَاثِينَ " .
ابوہریرہ روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، یا یوں کہا کہ ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا چاند ہی دیکھ کر روزے شروع کرو اور چاند ہی دیکھ کر روزہ موقوف کرو اور اگر بادل ہو جائے تو تیس دن پورے کر لو۔
صحیح بخاری حدیث ۱۹۰۹ کا خلاصہ
اس حدیث میں رمضان کے شروع اور ختم کرنے کا صاف اصول بتایا گیا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ چاند دیکھ کر روزے شروع کرو اور چاند دیکھ کر روزہ ختم کرو۔ اگر چاند بادل کی وجہ سے چھپ جائے تو شعبان کے تیس دن پورے کر لو۔ اس حدیث میں رمضان کے چاند، رویت ہلال اور روزے کی گنتی کا بنیادی طریقہ موجود ہے۔ اس سے یہ بات سمجھ آتی ہے کہ عبادت میں اندازے یا شک کے بجائے واضح نشانی یا مکمل گنتی اختیار کی جائے۔ روزہ اور عید دونوں چاند کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں، اس لیے چاند دیکھنے کا معاملہ اہم ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- روزہ چاند دیکھ کر شروع کیا جائے۔
- عید بھی چاند دیکھ کر کی جائے۔
- بادل ہوں تو شعبان کے تیس دن مکمل کیے جائیں۔
- شک کی حالت میں واضح گنتی پر عمل کیا جائے۔
