صحیح بخاری حدیث ۱۹۰۸ - قمری مہینے کی گنتی کا آسان بیان

قمری مہینہ انتیس دن کا بھی ہو سکتا ہے

صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۹۰۸

حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ جَبَلَةَ بْنِ سُحَيْمٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، يَقُولُ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الشَّهْرُ هَكَذَا وَهَكَذَا ، وَخَنَسَ الْإِبْهَامَ فِي الثَّالِثَةِ " .

ابن عمر روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مہینہ اتنے دنوں اور اتنے دنوں کا ہوتا ہے۔ تیسری مرتبہ کہتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انگھوٹھے کو دبا لیا۔

صحیح بخاری حدیث ۱۹۰۸ کا خلاصہ

اس حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مہینے کی گنتی کو بہت آسان انداز میں سمجھایا۔ آپ نے فرمایا کہ مہینہ اس طرح اور اس طرح ہوتا ہے، اور تیسری مرتبہ اشارہ کرتے ہوئے انگوٹھا دبا لیا۔ اس سے بات صاف ہوئی کہ قمری مہینہ کبھی انتیس دن کا بھی ہوتا ہے۔ یہ حدیث رمضان کے چاند، روزے کے آغاز اور قمری مہینوں کی سمجھ سے جڑی ہوئی ہے۔ یہاں تعلیم کا انداز بھی بہت آسان ہے: بات کو مشکل الفاظ کے بجائے اشارے سے واضح کیا گیا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ دین کی بنیادی باتیں لوگوں کو سمجھ آنے والے انداز میں بتائی جاتی تھیں۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • قمری مہینہ کبھی انتیس دن کا بھی ہوتا ہے۔
  • دینی بات آسان انداز میں سمجھائی جا سکتی ہے۔
  • رمضان کے معاملات میں مہینے کی گنتی اہم ہے۔
  • نبی کریم صلى الله عليه وسلم تعلیم میں سادگی اختیار فرماتے تھے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں