صحیح بخاری حدیث ۱۹۱۰ - مہینہ انتیس دن کا بھی ہوتا ہے
ایک مہینہ انتیس دن کا بھی ہو سکتا ہے
صحیح بخاری : ۱۹۱۰
صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۹۱۰
حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَيْفِيٍّ ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، " أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، آلَى مِنْ نِسَائِهِ شَهْرًا ، فَلَمَّا مَضَى تِسْعَةٌ وَعِشْرُونَ يَوْمًا ، غَدَا ، أَوْ رَاحَ ، فَقِيلَ لَهُ : إِنَّكَ حَلَفْتَ أَنْ لَا تَدْخُلَ شَهْرًا ، فَقَالَ : إِنَّ الشَّهْرَ يَكُونُ تِسْعَةً وَعِشْرِينَ يَوْمًا " .
ام سلمہ روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ازواج سے ایک مہینہ تک جدا رہے پھر انتیس دن پورے ہو گئے تو صبح کے وقت یا شام کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لے گئے اس پر کسی نے کہا آپ نے تو عہد کیا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک مہینہ تک ان کے یہاں تشریف نہیں لے جائیں گے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مہینہ انتیس دن کا بھی ہوتا ہے۔
صحیح بخاری حدیث ۱۹۱۰ کا خلاصہ
اس حدیث میں ایک عملی واقعے کے ذریعے بتایا گیا کہ مہینہ انتیس دن کا بھی ہو سکتا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازواج سے ایک ماہ تک جدا رہنے کا عہد کیا تھا۔ جب انتیس دن پورے ہوئے تو آپ صبح یا شام ان کے پاس تشریف لے گئے۔ کسی نے عرض کیا کہ آپ نے تو ایک مہینے کا عہد کیا تھا۔ آپ نے فرمایا کہ مہینہ انتیس دن کا بھی ہوتا ہے۔ اس حدیث سے قمری مہینے کی حقیقت سمجھ آتی ہے کہ ہر ماہ لازمی طور پر تیس دن کا نہیں ہوتا۔ اسلامی مہینوں میں چاند کے حساب سے انتیس اور تیس دونوں صورتیں ہو سکتی ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- قمری مہینہ کبھی انتیس دن کا ہوتا ہے۔
- ایک ماہ کی مدت ہمیشہ تیس دن نہیں ہوتی۔
- نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے عملی واقعے سے مسئلہ سمجھایا۔
- اسلامی مہینوں میں چاند کی گنتی معتبر ہے۔
