صحیح بخاری حدیث ۱۹۱۱ - قمری مہینہ اور انتیس راتیں

قمری مہینے کی گنتی: انتیس دن بھی ایک ماہ ہیں

صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۹۱۱

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " آلَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ نِسَائِهِ ، وَكَانَتِ انْفَكَّتْ رِجْلُهُ ، فَأَقَامَ فِي مَشْرُبَةٍ تِسْعًا وَعِشْرِينَ لَيْلَةً ، ثُمَّ نَزَلَ ، فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، آلَيْتَ شَهْرًا ؟ فَقَالَ : إِنَّ الشَّهْرَ يَكُونُ تِسْعًا وَعِشْرِينَ " .

انس روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیویوں سے جدا رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاؤں میں موچ آ گئی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بالاخانہ میں انتیس دن قیام کیا تھا، پھر وہاں سے اترے۔ لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مہینہ کا ایلاء کیا تھا۔ جواب میں آپ نے فرمایا کہ مہینہ انتیس دن کا بھی ہوتا ہے۔

صحیح بخاری حدیث ۱۹۱۱ کا خلاصہ

اس حدیث میں انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیویوں سے جدا رہے اور آپ کے پاؤں میں موچ آ گئی تھی۔ آپ بالاخانے میں انتیس راتیں ٹھہرے، پھر نیچے تشریف لائے۔ لوگوں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ، آپ نے ایک ماہ کا ایلاء کیا تھا۔ آپ نے جواب دیا کہ مہینہ انتیس دن کا بھی ہوتا ہے۔ اس حدیث کا اصل نکتہ قمری مہینے کی گنتی ہے۔ اسلامی مہینہ چاند کے حساب سے چلتا ہے، اس لیے کبھی انتیس اور کبھی تیس دن کا ہوتا ہے۔ اس میں کوئی تضاد نہیں، بلکہ یہی قمری نظام کا معمول ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • قمری مہینہ انتیس راتوں کا بھی ہو سکتا ہے۔
  • اسلامی مہینوں کی گنتی چاند کے حساب سے ہے۔
  • ایک ماہ کی مدت ہر بار تیس دن نہیں ہوتی۔
  • دینی مسائل میں نبی کریم صلى الله عليه وسلم کی وضاحت اصل رہنمائی ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں