صحیح بخاری حدیث ۱۹۱۲ - رمضان اور ذی الحجہ کے مہینے
رمضان اور ذی الحجہ کے مہینوں کی خاص بات
صحیح بخاری : ۱۹۱۲
صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۹۱۲
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، قَالَ : سَمِعْتُ إِسْحَاقَ بْنَ سُوَيْدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . ح وَحَدَّثَنِي مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرَةَ ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " شَهْرَانِ لَا يَنْقُصَانِ : شَهْرَا عِيدٍ رَمَضَانُ ، وَذُو الْحَجَّةِ " .
´ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے معتمر بن سلیمان نے بیان کیا، کہا کہ میں نے اسحاق سے سنا، انہوں نے عبدالرحمٰن بن ابی بکرہ رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے (دوسری سند) امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا اور مجھے مسدد نے خبر دی، ان سے معتمر نے بیان کیا، ان سے خالد حذاء نے بیان کیا کہ مجھے عبدالرحمٰن بن ابی بکرہ رضی اللہ عنہ نے خبر دی اور انہیں ان کے والد نے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دونوں مہینے ناقص نہیں رہتے۔ مراد رمضان اور ذی الحجہ کے دونوں مہینے ہیں۔
صحیح بخاری حدیث ۱۹۱۲ کا خلاصہ
اس حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دو مہینے ناقص نہیں رہتے، اور مراد رمضان اور ذی الحجہ ہیں۔ حدیث کے الفاظ میں دونوں کو عید کے مہینے کہا گیا ہے۔ رمضان روزے اور عید الفطر سے جڑا ہے، جبکہ ذی الحجہ حج اور عید الاضحی سے جڑا ہے۔ یہاں اصل پیغام یہ ہے کہ یہ دونوں مہینے عبادت کے بڑے موسم ہیں، اور ان کی گنتی اور قدر کو اہم سمجھا جائے۔ حدیث میں ان مہینوں کا ذکر بہت مختصر مگر معنی خیز ہے۔ اس لیے رمضان اور ذی الحجہ کو عام مہینوں کی طرح غفلت میں نہیں گزارنا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- رمضان اور ذی الحجہ عبادت کے بڑے مہینے ہیں۔
- دونوں مہینے عیدوں سے تعلق رکھتے ہیں۔
- ان مہینوں کی گنتی اور وقت کا خیال رکھا جائے۔
- حدیث میں ان مہینوں کی خاص حیثیت بتائی گئی ہے۔
