صحیح بخاری حدیث ۱۹۱۳ - اسلامی مہینہ انتیس یا تیس دن

اسلامی مہینہ کبھی انتیس اور کبھی تیس دن کا ہوتا ہے

صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۹۱۳

حَدَّثَنَا آدَمُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا الْأَسْوَدُ بْنُ قَيْسٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَمْرٍو ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " إِنَّا أُمَّةٌ أُمِّيَّةٌ ، لَا نَكْتُبُ وَلَا نَحْسُبُ الشَّهْرُ هَكَذَا " ، وَهَكَذَا يَعْنِي مَرَّةً تِسْعَةً وَعِشْرِينَ ، وَمَرَّةً ثَلَاثِينَ .

ابن عمر روایت:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، ہم ایک بے پڑھی لکھی قوم ہیں نہ لکھنا جانتے ہیں نہ حساب کرنا۔ مہینہ یوں ہے اور یوں ہے۔ آپ کی مرد ایک مرتبہ انتیس (دنوں سے) تھی اور ایک مرتبہ تیس سے۔ (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دسوں انگلیوں سے تین بار بتلایا)۔

صحیح بخاری حدیث ۱۹۱۳ کا خلاصہ

اس حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے امت کے لیے مہینے کی گنتی کو آسان انداز میں بیان فرمایا۔ آپ نے فرمایا کہ ہم ایسی امت ہیں جو نہ لکھتی ہے نہ حساب کرتی ہے، مہینہ اس طرح ہے اور اس طرح ہے۔ راوی نے بتایا کہ آپ کی مراد کبھی انتیس اور کبھی تیس دن تھی۔ اس حدیث میں قمری مہینے کی سادہ گنتی بیان ہوئی ہے۔ رمضان، عید اور دیگر عبادات قمری مہینے سے جڑی ہیں، اس لیے مہینہ انتیس یا تیس دن ہونے کی بات سمجھنا ضروری ہے۔ حدیث یہ بھی بتاتی ہے کہ دین کے بنیادی احکام عام لوگوں کے لیے سمجھنے میں آسان رکھے گئے ہیں۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • اسلامی مہینہ انتیس یا تیس دن کا ہو سکتا ہے۔
  • قمری گنتی عبادات میں اہم ہے۔
  • دین کی بنیادی باتیں آسان انداز میں سکھائی گئیں۔
  • رمضان کے معاملے میں گنتی اور چاند دونوں کا خیال رکھا جاتا ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں