سنن نسائی حدیث ۲۱۲۴ - روزہ اور عید کا چاند
روزہ اور عید کا چاند دیکھنے کا حکم
سنن نسائی : ۲۱۲۴
سنن نسائیحدیث نمبر ۲۱۲۴
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا تَصُومُوا حَتَّى تَرَوْهُ ، وَلَا تُفْطِرُوا حَتَّى تَرَوْهُ ، فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَاقْدِرُوا لَهُ " .
عبداللہ بن عمر روایت:
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم (رمضان کے) روزے نہ رکھو یہاں تک کہ (چاند) دیکھ لو اور نہ ہی روزے رکھنا بند کرو یہاں تک کہ (عید الفطر کا چاند) دیکھ لو (اور) اگر آسمان میں بادل ہوں تو اس (مہینے) کا حساب لگا لو“۔
سنن نسائی حدیث ۲۱۲۴ کا خلاصہ
اس حدیث میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ہی اصول کو بہت صاف انداز میں بیان کیا ہے۔ رمضان کے روزے اس وقت شروع کیے جائیں جب چاند دیکھا جائے، اور روزے اس وقت بند کیے جائیں جب عید الفطر کا چاند دیکھا جائے۔ اگر آسمان میں بادل ہوں تو اس مہینے کا حساب لگایا جائے۔ اس حدیث کا پیغام یہ ہے کہ رمضان کا چاند دیکھنے کی حدیث صرف آغاز رمضان تک محدود نہیں، بلکہ عید الفطر کے چاند سے بھی متعلق ہے۔ اس میں امت کے لیے آسانی ہے کہ عبادت کو واضح نشانی کے ساتھ جوڑا گیا۔ چاند نظر نہ آئے تو بھی ایک متعین طریقہ بتایا گیا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- رمضان کے روزے چاند دیکھ کر شروع کیے جائیں۔
- عید الفطر کا فیصلہ بھی چاند دیکھنے سے جڑا ہے۔
- بادل کی صورت میں مہینے کے حساب کو دیکھا جائے۔
