سنن نسائی حدیث ۲۱۲۵ - بادل ہوں تو تیس دن پورے کرو

بادل ہوں تو تیس دن پورے کرنے کی حدیث

سنن نسائیحدیث نمبر ۲۱۲۵

أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَلِيٍّ صَاحِبَ حِمْصَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : ذَكَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْهِلَالَ , فَقَالَ : " إِذَا رَأَيْتُمُوهُ فَصُومُوا ، وَإِذَا رَأَيْتُمُوهُ فَأَفْطِرُوا ، فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَعُدُّوا ثَلَاثِينَ " .

ابوہریرہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چاند کا ذکر کیا تو فرمایا: ”جب تم اسے (یعنی رمضان کا چاند) دیکھ لو تو روزہ رکھو، اور جب اسے (یعنی عید الفطر کا چاند) دیکھ لو تو روزہ بند کر دو، (اور) اگر آسمان میں بادل ہوں تو تیس دن پورے شمار کرو“۔

سنن نسائی حدیث ۲۱۲۵ کا خلاصہ

اس حدیث میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چاند کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ اسے دیکھو تو روزہ رکھو، اور اسے دیکھو تو روزہ بند کرو۔ اگر آسمان میں بادل ہوں تو تیس دن پورے شمار کرو۔ یہاں رمضان کا چاند اور عید کا چاند دونوں کا حکم ایک ہی اصول سے سمجھایا گیا ہے۔ حدیث کا اہم نکتہ یہ ہے کہ جب چاند نظر نہ آئے تو پریشانی یا اختلاف کے بجائے تیس دن کی گنتی پوری کی جائے۔ یہ بات روزہ، رویت ہلال اور اسلامی مہینے کی گنتی کے بارے میں بہت واضح رہنمائی دیتی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • چاند دیکھنا روزے کے آغاز اور اختتام کا معیار ہے۔
  • بادل کی وجہ سے چاند نہ دکھے تو تیس دن شمار کیے جائیں۔
  • عبادت میں واضح اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بتائے ہوئے طریقے کو اپنایا جائے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں