سنن نسائی حدیث ۲۱۲۶ - چاند نہ دکھے تو گنتی پوری کرو
چاند نہ دکھے تو تیس کی گنتی مکمل کرو
سنن نسائی : ۲۱۲۶
سنن نسائیحدیث نمبر ۲۱۲۶
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ أَبُو الْجَوْزَاءِ وَهُوَ ثِقَةٌ بَصْرِيٌّ أَخُو أَبِي الْعَالِيَةِ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا حِبَّانُ بْنُ هِلَالٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " صُومُوا لِرُؤْيَتِهِ ، وَأَفْطِرُوا لِرُؤْيَتِهِ ، فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَأَكْمِلُوا الْعِدَّةَ ثَلَاثِينَ " .
عبداللہ بن عباس روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے (رمضان کا چاند) دیکھ کر روزہ رکھو، اور اسے (عید الفطر کا چاند) دیکھ کر روزہ بند کرو، (اور) اگر تم پر بادل چھائے ہوں تو تیس کی گنتی پوری کرو“۔
سنن نسائی حدیث ۲۱۲۶ کا خلاصہ
اس روایت میں عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ چاند دیکھ کر روزہ رکھو اور چاند دیکھ کر روزہ بند کرو۔ اگر بادل چھا جائیں تو تیس کی گنتی پوری کرو۔ یہ حدیث رمضان کا چاند دیکھنے کی حدیث کے طور پر بہت مشہور ہے، کیونکہ اس میں ایک عملی طریقہ بتایا گیا ہے۔ مسلمان کبھی کبھی بادل، گرد یا موسم کی وجہ سے چاند نہیں دیکھ پاتے۔ ایسے وقت میں حدیث جلد بازی یا اندازے کے بجائے مہینے کی تعداد مکمل کرنے کی طرف رہنمائی کرتی ہے۔ اس سے روزے کے آغاز اور اختتام میں ترتیب باقی رہتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- رویت ہلال روزے کے شروع اور ختم ہونے کا سبب ہے۔
- بادل ہوں تو مہینے کی گنتی پوری کی جائے۔
- رمضان کے معاملے میں جلد بازی سے بچنا چاہیے۔
