سنن نسائی حدیث ۲۱۲۷ - رمضان سے پہلے روزہ نہ بڑھاؤ
رمضان سے پہلے روزہ شروع کرنے سے بچو
سنن نسائی : ۲۱۲۷
سنن نسائیحدیث نمبر ۲۱۲۷
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حُنَيْنٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : عَجِبْتُ مِمَّنْ يَتَقَدَّمُ الشَّهْرَ ، وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا رَأَيْتُمُ الْهِلَالَ فَصُومُوا ، وَإِذَا رَأَيْتُمُوهُ فَأَفْطِرُوا ، فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَأَكْمِلُوا الْعِدَّةَ ثَلَاثِينَ " .
عبداللہ بن عباس روایت:
مجھے حیرت ہوتی ہے اس شخص پر جو مہینہ شروع ہونے سے پہلے (ہی) روزہ رکھنے لگتا ہے، حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم (رمضان کا) چاند دیکھ لو تو روزہ رکھو، (اسی طرح) جب (عید الفطر کا چاند) دیکھ لو تو روزہ رکھنا بند کرو، (اور) جب تم پر بادل چھائے ہوں تو تیس کی گنتی پوری کرو“۔
سنن نسائی حدیث ۲۱۲۷ کا خلاصہ
اس حدیث میں عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا تعجب بیان ہوا ہے کہ کوئی شخص مہینہ شروع ہونے سے پہلے ہی روزہ رکھنے لگے، حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چاند دیکھ کر روزہ رکھنے اور چاند دیکھ کر روزہ چھوڑنے کا حکم دیا ہے۔ اگر بادل ہوں تو تیس کی گنتی پوری کی جائے۔ اس روایت کا اصل موضوع رمضان سے پہلے روزہ شروع کرنے کی جلد بازی ہے۔ حدیث بتاتی ہے کہ روزہ ایک عبادت ہے، مگر عبادت بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بتائے ہوئے وقت اور طریقے کے ساتھ کی جاتی ہے۔ رمضان کا چاند دیکھنے کی حدیث یہاں واضح کرتی ہے کہ اپنے اندازے سے مہینے کو آگے نہیں بڑھانا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- رمضان سے پہلے اپنی طرف سے روزہ شروع نہ کیا جائے۔
- چاند دیکھنا روزے کے آغاز کی واضح علامت ہے۔
- بادل ہوں تو تیس دن مکمل کر کے فیصلہ کیا جائے۔
