سنن نسائی حدیث ۲۱۲۸ - رمضان پر سبقت نہ کرو
رمضان پر سبقت نہ کرنے کی حدیث
سنن نسائی : ۲۱۲۸
سنن نسائیحدیث نمبر ۲۱۲۸
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا تَقَدَّمُوا الشَّهْرَ حَتَّى تَرَوْا الْهِلَالَ قَبْلَهُ ، أَوْ تُكْمِلُوا الْعِدَّةَ ، ثُمَّ صُومُوا حَتَّى تَرَوْا الْهِلَالَ ، أَوْ تُكْمِلُوا الْعِدَّةَ قَبْلَهُ " .
حذیفہ بن یمان روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم رمضان کے مہینہ پر سبقت نہ کرو یہاں تک کہ (روزہ رکھنے سے) پہلے چاند دیکھ لو، یا (شعبان کی) تیس کی تعداد پوری کر لو، پھر روزہ رکھو، یہاں تک کہ (عید الفطر کا) چاند دیکھ لو، یا اس سے پہلے رمضان کی تیس کی تعداد پوری کر لو“۔
سنن نسائی حدیث ۲۱۲۸ کا خلاصہ
اس روایت میں حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ رمضان کے مہینے پر سبقت نہ کرو، یہاں تک کہ پہلے چاند دیکھ لو یا شعبان کی گنتی پوری کر لو۔ پھر روزہ رکھو، یہاں تک کہ عید الفطر کا چاند دیکھ لو یا اس سے پہلے رمضان کی گنتی پوری ہو جائے۔ اس حدیث میں رمضان کا آغاز اور اختتام دونوں واضح کیے گئے ہیں۔ اس کا پیغام یہ ہے کہ رمضان کو اپنی طرف سے آگے نہ کیا جائے۔ روزہ عبادت ہے، مگر اس کا وقت چاند یا گنتی سے مقرر ہوتا ہے۔ رویت ہلال اور مہینے کی گنتی دونوں کو حدیث نے صاف انداز میں بیان کیا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- رمضان شروع کرنے میں اپنی طرف سے سبقت نہ کی جائے۔
- چاند نظر نہ آئے تو شعبان کی گنتی پوری کی جائے۔
- روزے ختم کرنے کے لیے شوال کا چاند یا رمضان کی گنتی دیکھی جائے۔
