سنن نسائی حدیث ۲۱۲۹ - شعبان مکمل کرو یا چاند دیکھو
شعبان مکمل کرو یا رمضان کا چاند دیکھو
سنن نسائی : ۲۱۲۹
سنن نسائیحدیث نمبر ۲۱۲۹
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ رِبْعِيٍّ ، عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَقَدَّمُوا الشَّهْرَ حَتَّى تُكْمِلُوا الْعِدَّةَ ، أَوْ تَرَوْا الْهِلَالَ ، ثُمَّ صُومُوا وَلَا تُفْطِرُوا حَتَّى تَرَوْا الْهِلَالَ ، أَوْ تُكْمِلُوا الْعِدَّةَ ثَلَاثِينَ " , أَرْسَلَهُ الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ .
´ایک صحابی رسول رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم رمضان کے مہینہ پر سبقت نہ کرو یہاں تک کہ شعبان کی گنتی پوری کر لو، یا رمضان کا چاند دیکھ لو پھر روزہ رکھو، اور نہ روزہ بند کرو یہاں تک کہ تم عید الفطر کا چاند دیکھ لو، یا رمضان کی تیس (دن) کی گنتی پوری کر لو“۔ حجاج بن ارطاۃ نے اسے مرسلاً روایت کیا ہے۔
سنن نسائی حدیث ۲۱۲۹ کا خلاصہ
اس حدیث میں ایک صحابی رسول رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ رمضان کے مہینے پر سبقت نہ کرو، یہاں تک کہ شعبان کی گنتی پوری کر لو یا رمضان کا چاند دیکھ لو۔ پھر روزہ رکھو، اور روزہ بند نہ کرو یہاں تک کہ عید الفطر کا چاند دیکھ لو یا رمضان کے تیس دن پورے کر لو۔ حدیث کے آخر میں سند سے متعلق ایک بات بھی آئی ہے کہ حجاج بن ارطاۃ نے اسے مرسلاً روایت کیا ہے۔ اصل پیغام یہ ہے کہ رمضان اور عید کے معاملے میں چاند یا گنتی کو بنیاد بنایا جائے، اندازے اور جلد بازی کو نہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- رمضان سے پہلے اپنی طرف سے روزہ شروع نہ کیا جائے۔
- شعبان مکمل ہو یا رمضان کا چاند نظر آئے تو روزہ شروع کیا جائے۔
- عید کا فیصلہ شوال کے چاند یا رمضان کی گنتی سے کیا جائے۔
