سنن نسائی حدیث ۲۱۳۰ - شعبان اور رمضان کی گنتی
شعبان اور رمضان کی تیس دن گنتی
سنن نسائی : ۲۱۳۰
سنن نسائیحدیث نمبر ۲۱۳۰
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حِبَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ أَرْطَاةَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ رِبْعِيٍّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا رَأَيْتُمُ الْهِلَالَ فَصُومُوا ، وَإِذَا رَأَيْتُمُوهُ فَأَفْطِرُوا ، فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَأَتِمُّوا شَعْبَانَ ثَلَاثِينَ ، إِلَّا أَنْ تَرَوْا الْهِلَالَ قَبْلَ ذَلِكَ ، ثُمَّ صُومُوا رَمَضَانَ ثَلَاثِينَ ، إِلَّا أَنْ تَرَوْا الْهِلَالَ قَبْلَ ذَلِكَ " .
ربعی روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم (رمضان کا) چاند دیکھ لو تو روزہ رکھو، اور جب اسے (عید الفطر کا چاند) دیکھ لو تو روزہ بند کر دو، (اور) اگر تم پر بادل چھا جائیں تو شعبان کے تیس دن پورے کرو، مگر یہ کہ اس سے پہلے چاند دیکھ لو، پھر رمضان کے تیس روزے رکھو، مگر یہ کہ اس سے پہلے چاند دیکھ لو“۔
سنن نسائی حدیث ۲۱۳۰ کا خلاصہ
اس روایت میں ربعی کے بیان کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب رمضان کا چاند دیکھ لو تو روزہ رکھو، اور جب عید الفطر کا چاند دیکھ لو تو روزہ بند کرو۔ اگر بادل چھا جائیں تو شعبان کے تیس دن پورے کرو، مگر یہ کہ اس سے پہلے چاند دیکھ لو۔ پھر رمضان کے تیس روزے رکھو، مگر یہ کہ اس سے پہلے چاند دیکھ لو۔ اس حدیث میں چاند اور گنتی دونوں کو ایک ساتھ سمجھایا گیا ہے۔ جب رویت ہلال ہو جائے تو اسی پر عمل کیا جائے، اور جب چاند نہ دکھے تو مہینے کی گنتی مکمل کی جائے۔ یہ روزے کے وقت کو واضح کرتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- چاند نظر آئے تو اسی کے مطابق رمضان شروع یا ختم کیا جائے۔
- بادل ہوں تو شعبان یا رمضان کی گنتی پوری کی جائے۔
- تیس دن مکمل کرنے سے مہینے کا معاملہ واضح ہو جاتا ہے۔
