سنن نسائی حدیث ۲۱۳۱ - رمضان کا استقبال روزے سے نہ کرو
رمضان سے پہلے روزہ بڑھانے کی ممانعت
سنن نسائی : ۲۱۳۱
سنن نسائیحدیث نمبر ۲۱۳۱
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ أَبِي صَغِيرَةَ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " صُومُوا لِرُؤْيَتِهِ وَأَفْطِرُوا لِرُؤْيَتِهِ ، فَإِنْ حَالَ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُ سَحَابٌ فَأَكْمِلُوا الْعِدَّةَ ، وَلَا تَسْتَقْبِلُوا الشَّهْرَ اسْتِقْبَالًا " .
عبداللہ بن عباس روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے (رمضان کے چاند کو) دیکھ کر روزہ رکھو، اور اسے (یعنی عید الفطر کے چاند کو) دیکھ کر روزہ بند کرو، (اور) اگر تمہارے اور اس کے بیچ بدلی حائل ہو جائے تو تیس کی گنتی پوری کرو، اور (ایک یا دو دن پہلے سے رمضان کے) مہینہ کا استقبال نہ کرو“۔
سنن نسائی حدیث ۲۱۳۱ کا خلاصہ
اس حدیث میں عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ رمضان کے چاند کو دیکھ کر روزہ رکھو اور عید الفطر کے چاند کو دیکھ کر روزہ بند کرو۔ اگر تمہارے اور چاند کے درمیان بادل حائل ہو جائیں تو گنتی پوری کرو، اور مہینے کا استقبال پہلے سے روزہ رکھ کر نہ کرو۔ اس روایت میں رمضان کا چاند، بادل کی صورت اور رمضان سے پہلے روزہ رکھنے کی جلدی تینوں باتیں ایک ساتھ آئی ہیں۔ حدیث کا مقصد یہ ہے کہ رمضان کے آغاز کو واضح نشانی کے ساتھ رکھا جائے، نہ کہ ایک یا دو دن پہلے اپنی طرف سے شروع کر دیا جائے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- رمضان سے پہلے احتیاط کے نام پر روزہ شروع نہ کیا جائے۔
- چاند نظر نہ آئے تو گنتی مکمل کی جائے۔
- روزہ رکھنے اور چھوڑنے دونوں میں رویت ہلال کا اعتبار ہے۔
