صحیح مسلم حدیث ۲۵۴۰ - بلال کی رات والی اذان کا حکم

بلال کی رات والی اذان: سحری کب بند ہو گی؟

صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۵۴۰

وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ . ح وحَدَّثَنَا إسحاق ، أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ مَسْعَدَةَ كُلُّهُمْ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بِالْإِسْنَادَيْنِ كِلَيْهِمَا نَحْوَ حَدِيثِ ابْنِ نُمَيْرٍ .

‏‏‏‏ مذکورہ بالا حدیث اس سند سے بھی مروی ہے۔

صحیح مسلم حدیث ۲۵۴۰ کا خلاصہ

یہ روایت بھی اسی مضمون کو مختلف سندوں سے بیان کرتی ہے کہ بلال رضی اللہ عنہ رات کو اذان دیتے تھے، اس لیے کھاتے پیتے رہو یہاں تک کہ ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ اذان دیں۔ اس میں اصل موضوع سحری کا وقت اور اذان کا فرق ہے۔ جب حدیث میں رات والی اذان کا ذکر آئے تو اسے فجر کی آخری اذان سمجھ کر فوراً سحری بند کرنے کا حکم نہیں بنایا جا سکتا۔ متن کے مطابق سحری کا تعلق ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کی اذان سے جوڑا گیا ہے۔ یہ بات عام فہم انداز میں یوں سمجھیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو واضح کر دیا کہ کون سی اذان سحری روکنے سے متعلق ہے۔ اسی لیے سحری اور فجر کے مسئلے میں حدیث کے الفاظ کو دھیان سے سمجھنا چاہیے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • یہ روایت سحری اور اذان کے پہلے بیان شدہ حکم کو مضبوط کرتی ہے۔
  • رات والی اذان اور فجر والی اذان کو الگ سمجھنا چاہیے۔
  • سحری کے وقت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی واضح ہدایت کو بنیاد بنانا چاہیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں