صحیح مسلم حدیث ۲۵۳۹ - سحری اور اذان کی تائیدی روایت
سحری کی اذان: بلال اور ابن ام مکتوم والی حدیث کی تائید
صحیح مسلم : ۲۵۳۹
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۵۳۹
وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ ،
مذکورہ بالا حدیث اس سند سے بھی مروی ہے۔
صحیح مسلم حدیث ۲۵۳۹ کا خلاصہ
یہ روایت ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کی سند سے اسی مضمون کو بیان کرتی ہے جو پہلے گزر چکا ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ بلال رضی اللہ عنہ رات کو اذان دیتے تھے، اس لیے اس اذان کے بعد بھی کھانے پینے کی اجازت تھی، یہاں تک کہ ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ اذان دیں۔ یہ حدیث سحری اور اذان کے مسئلے کو مزید واضح کرتی ہے۔ جب ایک ہی مضمون مختلف صحابہ سے آئے تو طالب علم کے لیے بات سمجھنا آسان ہو جاتا ہے۔ اس روایت میں ہمیں کوئی نیا حکم گھڑنے کی ضرورت نہیں، بلکہ متن کے اندر رہ کر یہی بات سمجھنی ہے کہ سحری بند کرنے کا تعلق اس اذان سے ہے جو فجر کے وقت دی جاتی تھی، نہ کہ رات کی پہلے والی اذان سے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- یہ روایت پہلے بیان شدہ حکم کی تائید کرتی ہے۔
- بلال رضی اللہ عنہ کی رات والی اذان کے بعد سحری جاری رہ سکتی تھی۔
- ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کی اذان سحری کے اختتام کی علامت تھی۔
