صحیح مسلم حدیث ۲۵۵۴ - افطار جلدی کرنے میں خیر
افطار جلدی کرنے کی حدیث اور خیر کی بات
صحیح مسلم : ۲۵۵۴
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۵۵۴
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا يَزَالُ النَّاسُ بِخَيْرٍ مَا عَجَّلُوا الْفِطْرَ " ،
سہل بن سعد روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہمیشہ لوگ خیر پر رہیں گے جب تک افطار جلد کریں گے۔“
صحیح مسلم حدیث ۲۵۵۴ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع افطار میں جلدی ہے۔ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ لوگ خیر پر رہیں گے جب تک افطار جلد کریں گے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب افطار کا وقت ہو جائے تو بلا وجہ تاخیر نہ کی جائے۔ حدیث میں روزہ کھولنے کے وقت کو آسان اور واضح رکھا گیا ہے۔ افطار جلدی کرنے کی حدیث، روزہ کھولنے کا وقت، اور مغرب کے وقت افطار جیسے سرچ الفاظ اسی تعلیم سے جڑتے ہیں۔ یہاں جلدی سے مراد وقت داخل ہونے کے بعد افطار کرنا ہے، نہ کہ وقت سے پہلے۔ اس لیے ایک روزہ دار کے لیے مناسب ہے کہ غروب کے بعد افطار میں غیر ضروری دیر نہ کرے۔ حدیث کا انداز مختصر ہے مگر عمل کے لیے کافی واضح رہنمائی دیتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- وقت داخل ہو جائے تو افطار جلد کرنا پسندیدہ عمل بتایا گیا۔
- حدیث میں لوگوں کے خیر پر رہنے کو افطار جلد کرنے سے جوڑا گیا۔
- جلدی کا مطلب وقت سے پہلے نہیں، بلکہ وقت ہونے کے بعد تاخیر نہ کرنا ہے۔
