صحیح مسلم حدیث ۲۵۵۵ - تعجیل افطار کی تائیدی روایت
افطار جلدی کرنا: نبی صلى الله عليه وسلم کی مختصر تعلیم
صحیح مسلم : ۲۵۵۵
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۵۵۵
وحَدَّثَنَاه قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ . ح وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ سُفْيَانَ ، كِلَاهُمَا ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ .
مذکورہ بالا حدیث اس سند سے بھی مروی ہے۔
صحیح مسلم حدیث ۲۵۵۵ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع افطار میں جلدی ہے۔ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ لوگ خیر پر رہیں گے جب تک افطار جلد کریں گے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب افطار کا وقت ہو جائے تو بلا وجہ تاخیر نہ کی جائے۔ حدیث میں روزہ کھولنے کے وقت کو آسان اور واضح رکھا گیا ہے۔ افطار جلدی کرنے کی حدیث، روزہ کھولنے کا وقت، اور مغرب کے وقت افطار جیسے سرچ الفاظ اسی تعلیم سے جڑتے ہیں۔ یہاں جلدی سے مراد وقت داخل ہونے کے بعد افطار کرنا ہے، نہ کہ وقت سے پہلے۔ اس لیے ایک روزہ دار کے لیے مناسب ہے کہ غروب کے بعد افطار میں غیر ضروری دیر نہ کرے۔ حدیث کا انداز مختصر ہے مگر عمل کے لیے کافی واضح رہنمائی دیتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- یہ روایت اسی تعلیم کو دوسری سند سے نقل کرتی ہے۔
- افطار میں وقت کے بعد غیر ضروری دیر پسندیدہ نہیں۔
- حدیث میں بات مختصر مگر عمل کے لیے صاف ہے۔
