صحیح مسلم حدیث ۲۵۵۶ - رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کا افطار کا عمل

افطار اور نماز میں جلدی: عائشہ رضی اللہ عنہا کی گواہی

صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۵۵۶

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَأَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، قَالَا : أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ أَبِي عَطِيَّةَ ، قَالَ : دَخَلْتُ أَنَا وَمَسْرُوقٌ عَلَى عَائِشَةَ ، فَقُلْنَا : " يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ رَجُلَانِ مِنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَحَدُهُمَا يُعَجِّلُ الْإِفْطَارَ وَيُعَجِّلُ الصَّلَاةَ ، وَالْآخَرُ يُؤَخِّرُ الْإِفْطَارَ وَيُؤَخِّرُ الصَّلَاةَ " ، قَالَتْ : " أَيُّهُمَا الَّذِي يُعَجِّلُ الْإِفْطَارَ وَيُعَجِّلُ الصَّلَاةَ ؟ " ، قَالَ : " قُلْنَا : عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ " ، قَالَتْ : " كَذَلِكَ كَانَ يَصْنَعُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " ، زَادَ أَبُو كُرَيْبٍ : " وَالْآخَرُ أَبُو مُوسَى " .

ابوعطیہ روایت:

میں اور مسروق ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی کہ ام المؤمنین! دو شخص اصحاب سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک تو اول وقت افطار کرتے ہیں اور اول ہی وقت نماز پڑھتے ہیں دوسرے افطار اور نماز میں دیر کرتے ہیں تو آپ رضی اللہ عنہا نے پوچھا: وہ کون ہیں جو اول وقت افطار کرتے ہیں اور اول ہی وقت نماز پڑھتے ہیں تو ہم نے کہا: وہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ہیں آپ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی ایسا ہی کرتے تھے۔ زیادہ کیا ابوکریب نے اپنی روایت میں کہ دوسرے سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ ہیں۔

صحیح مسلم حدیث ۲۵۵۶ کا خلاصہ

اس روایت میں افطار اور نماز کے وقت کے بارے میں ایک عملی سوال آیا۔ ابوعطیہ اور مسروق نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ دو صحابہ میں سے ایک افطار جلد کرتے ہیں اور نماز بھی پہلے وقت پڑھتے ہیں، جبکہ دوسرے تاخیر کرتے ہیں۔ جب بتایا گیا کہ جلد افطار کرنے والے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ہیں تو عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم بھی ایسا ہی کرتے تھے۔ اس حدیث میں افطار جلدی کرنے کی سنت بہت صاف انداز میں سامنے آتی ہے۔ یہاں کسی پر طعن نہیں، بلکہ نبی صلى الله عليه وسلم کے عمل کی خبر دی گئی ہے۔ روزہ دار کے لیے پیغام یہی ہے کہ وقت ہو جانے پر افطار اور نماز میں بلا وجہ دیر نہ کی جائے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی صلى الله عليه وسلم کے عمل کی خبر دی۔
  • عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے جلد افطار اور جلد نماز کو نبی صلى الله عليه وسلم کے عمل کے مطابق بتایا گیا۔
  • روایت میں مقصد نبی صلى الله عليه وسلم کے عمل کو واضح کرنا ہے، کسی پر طعن کرنا نہیں۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں