صحیح مسلم حدیث ۲۵۵۷ - مغرب اور افطار میں تاخیر نہ کرنا

مغرب کے وقت افطار: نبی صلى الله عليه وسلم کا طریقہ

صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۵۵۷

وحَدَّثَنَا وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ عُمَارَةَ ، عَنْ أَبِي عَطِيَّةَ ، قَالَ : دَخَلْتُ أَنَا وَمَسْرُوقٌ عَلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، فَقَالَ لَهَا مَسْرُوقٌ : رَجُلَانِ مِنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، كِلَاهُمَا لَا يَأْلُو عَنِ الْخَيْرِ أَحَدُهُمَا يُعَجِّلُ الْمَغْرِبَ وَالْإِفْطَارَ ، وَالْآخَرُ يُؤَخِّرُ الْمَغْرِبَ وَالْإِفْطَارَ " ، فَقَالَتْ : " مَنْ يُعَجِّلُ الْمَغْرِبَ وَالْإِفْطَارَ ؟ " قَالَ : " عَبْدُ اللَّهِ " ، فَقَالَتْ : " هَكَذَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ " .

‏‏‏‏ مضمون وہی ہے جو اوپر مذکور ہوا۔ صرف اتنا فرق ہے کہ اس میں افطار اور مغرب کی تاخیر و تعجیل مذکور ہوئی ہے۔

صحیح مسلم حدیث ۲۵۵۷ کا خلاصہ

یہ روایت بھی افطار اور مغرب کے وقت کو نبی کریم صلى الله عليه وسلم کے عمل سے جوڑ کر بیان کرتی ہے۔ سوال میں دو صحابہ کا ذکر آیا: ایک مغرب اور افطار جلد کرتے تھے، دوسرے دیر کرتے تھے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بتایا کہ جو مغرب اور افطار جلد کرتے تھے، رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کا عمل بھی ایسا ہی تھا۔ اس حدیث سے افطار کا وقت، مغرب کے ساتھ روزہ کھولنا، اور افطار جلدی کرنے کی حدیث واضح ہوتی ہے۔ یہاں بات بہت سیدھی ہے: جب وقت آ جائے تو افطار میں تاخیر کو اپنا معمول نہ بنایا جائے۔ حدیث میں دونوں صحابہ کے بارے میں یہ بھی آیا کہ دونوں خیر سے پیچھے نہیں تھے، اس لیے بات کا مقصد نبی صلى الله عليه وسلم کے پسندیدہ عمل کو بتانا ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • مغرب اور افطار کو وقت پر جلد کرنا نبی صلى الله عليه وسلم کے عمل کے طور پر بیان ہوا۔
  • روایت میں دونوں صحابہ کے خیر سے پیچھے نہ رہنے کا ذکر ہے۔
  • اصل رہنمائی یہ ہے کہ نبی صلى الله عليه وسلم کے عمل کو معیار سمجھا جائے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں