صحیح مسلم حدیث ۲۵۵۸ - غروب آفتاب پر روزہ کھلتا ہے

روزہ کب کھولیں؟ غروب آفتاب کی حدیث

صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۵۵۸

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، واتفقوا في اللفظ ، قَالَ يَحْيَى : أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، وقَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ : حَدَّثَنَا أَبِي ، وقَالَ أَبُو كُرَيْبٍ : حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ جَمِيعًا ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ عُمَرَرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا أَقْبَلَ اللَّيْلُ وَأَدْبَرَ النَّهَارُ ، وَغَابَتِ الشَّمْسُ ، فَقَدْ أَفْطَرَ الصَّائِمُ " ، لَمْ يَذْكُرْ ابْنُ نُمَيْرٍ فَقَدْ .

عمر بن خطاب روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب رات آئی اور دن گیا اور سورج ڈوبا پس روزہ دار نے افطار کیا۔“ اور ابن نمیر کی روایت میں «فقد» کا لفظ نہیں ہے۔

صحیح مسلم حدیث ۲۵۵۸ کا خلاصہ

اس حدیث میں روزہ کھولنے کے وقت کی واضح علامت بتائی گئی ہے۔ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ جب رات آ جائے، دن چلا جائے، اور سورج ڈوب جائے، تو روزہ دار نے افطار کیا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ افطار کا تعلق سورج کے ڈوبنے سے ہے۔ حدیث میں تین باتیں ایک ساتھ آئیں: رات کا آنا، دن کا جانا، اور سورج کا غروب ہونا۔ روزہ دار کے لیے اس سے بہت آسان رہنمائی ملتی ہے کہ افطار کا وقت کب شروع ہوتا ہے۔ افطار کی حدیث، غروب آفتاب پر روزہ کھولنا، اور روزہ کب کھولیں جیسے الفاظ اسی مضمون سے جڑتے ہیں۔ اس روایت میں غیر ضروری انتظار کا ذکر نہیں، بلکہ وقت کی علامت صاف بتا دی گئی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • افطار کی علامت رات کا آنا، دن کا جانا اور سورج کا ڈوبنا ہے۔
  • حدیث میں روزہ کھولنے کا وقت صاف بتایا گیا۔
  • غروب آفتاب کے بعد غیر ضروری انتظار کا ذکر نہیں کیا گیا۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں