صحیح مسلم حدیث ۲۵۵۹ - سفر میں غروب کے بعد افطار

غروب کے بعد افطار: سفر کا نبوی واقعہ

صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۵۵۹

وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ أَبِي إسحاق الشَّيْبَانِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ ، فَلَمَّا غَابَتِ الشَّمْسُ ، قَالَ : " يَا فُلَانُ انْزِلْ فَاجْدَحْ لَنَا " ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ عَلَيْكَ نَهَارًا ، قَالَ : " انْزِلْ فَاجْدَحْ لَنَا " ، قَالَ : فَنَزَلَ فَجَدَحَ فَأَتَاهُ بِهِ ، فَشَرِبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ بِيَدِهِ : " إِذَا غَابَتِ الشَّمْسُ مِنْ هَا هُنَا ، وَجَاءَ اللَّيْلُ مِنْ هَا هُنَا فَقَدْ أَفْطَرَ الصَّائِمُ " .

عبداللہ روایت:

ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے سفر میں، رمضان کی مہینے میں، پھر جب آفتاب ڈوبا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے فلانے! اترو اور ہمارے لئے ستو گھولو۔“ انہوں نے عرض کی کہ یا رسول اللہ! ابھی آپ پر دن ہے (یعنی ان صحابی رضی اللہ عنہ کو یہ خیال ہوا کہ جب غروب کے بعد جو سرخی ہے وہ جاتی ہے دن جاتا ہے حالانکہ یہ غلط ہے) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا: ”اتر (یعنی اونٹ پر سے) اور ہمارے لئے ستو گھولو۔“ پھر وہ اترے اور ستو گھولے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لائے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پئیے اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ سے اشارہ فرمایا: ”جب سورج ڈوب جائے اس طرف کو (یعنی مغرب میں) اور آ جائے رات اس طرف سے (یعنی مشرق سے) پس روزہ کھل چکا صائم کا۔“

صحیح مسلم حدیث ۲۵۵۹ کا خلاصہ

اس حدیث میں سفر کے دوران رمضان کے روزے کا ایک واقعہ بیان ہوا ہے۔ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے ساتھ صحابہ سفر میں تھے۔ جب سورج ڈوب گیا تو آپ صلى الله عليه وسلم نے ایک شخص سے فرمایا کہ اتر کر ہمارے لیے ستو گھول دو۔ انہوں نے خیال کیا کہ ابھی دن باقی ہے، مگر آپ صلى الله عليه وسلم نے پھر حکم دیا۔ پھر ستو لایا گیا اور آپ صلى الله عليه وسلم نے پیا۔ اس کے بعد آپ صلى الله عليه وسلم نے ہاتھ سے اشارہ کر کے سمجھایا کہ جب سورج ادھر ڈوب جائے اور رات ادھر سے آ جائے تو روزہ دار کا افطار ہو گیا۔ یہ افطار کی حدیث روزہ کھولنے کے وقت کو عملی انداز میں سمجھاتی ہے۔ اصل بات یہی ہے کہ غروب آفتاب کے بعد افطار کیا جائے، چاہے روشنی کا کچھ اثر باقی دکھائی دے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • سفر میں بھی غروب آفتاب کے بعد افطار کا عملی واقعہ بیان ہوا۔
  • روشنی کا اثر باقی لگنے پر بھی آپ صلى الله عليه وسلم نے افطار کا وقت سمجھایا۔
  • حدیث میں سورج کے ڈوبنے اور رات کے آنے کو علامت بتایا گیا۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں